انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 624

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۴ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔حصے تھے، آسٹریا تھا، ہنگری تھا، لیبیا تھا ، افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو حصے تھے وہ بھی روما کی حکومت کے ماتحت تھے ان سب ملکوں کی کل آبادی دو کروڑ تھی لیکن ان کے مقابلہ میں عرب کی کل آبادی دو اڑھائی لاکھ تھی۔پھر وہ روپے والے تھے۔غرض مسلمانوں پر سب سے زیادہ نازک موقع اُس وقت آیا جب انہوں نے یہ خبر سنی کہ روما کی حکومت عرب پر حملہ آور ہو رہی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا کہ بجائے اس کے کہ روما کی فوجیں ہم پر حملہ آور ہوں مناسب ہوگا کہ ان کے مقابلہ کے لئے ہم خود باہر جائیں۔چنانچہ آپ دس بارہ ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج ساتھ لے کر روما کے لشکر کے مقابلہ کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔اس موقع پر آپ نے حکم دے دیا کہ سب مخلص مومن اس جنگ کیلئے چل پڑیں۔اس سے قبل آپ نے خود ایک صحابی کو کسی کام کیلئے باہر بھیجا تھا جب آپ مقابلہ کے لئے مدینہ سے روانہ ہو گئے تو وہ صحابی واپس آئے۔وہ مدت کے بعد واپس آئے تھے جب مدینہ پہنچے تو انہیں صرف اتنا پتہ کی لگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر گئے ہوئے ہیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی دُور سے آتا ہے اور دیر کے بعد گھر آتا ہے تو قدرتی طور پر وہ اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے۔وہ صحابی بھی گھر آئے اور چاہا کہ بیوی سے پیار کریں مگر اُس نے پرے ہٹا کر کہا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جنگ کیلئے باہر گئے ہوئے ہوں اور تجھے بیوی سے پیار سوجھ رہا ہے۔اس کا اِس صحابی پر اتنا اثر ہوا کہ وہ اُسی وقت گھوڑے پر سوار ہو کر جنگ کیلئے باہر چلے گئے۔اب یہ خدا کی محبت اور اس کے خاوند کی محبت کا مقابلہ تھا۔یہ نہیں کہ اُس صحابیہ کو کی اپنے خاوند سے محبت نہیں تھی بلکہ جب یہ سوال آ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں ہیں اور ان کا خاوند آرام میں ہے تو وہ برداشت نہ کر سکیں۔غرض جب خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا کسی اور سے مقابلہ آ جاتا ہے تب دین اس میں روک بنتا ہے۔اسلام دنیا کمانے ، تجارتیں اور زمینداریاں کرنے میں روک نہیں بنتا ہاں یہ کہتا ؟ ہے کہ جب یہ زمینداریاں اور تجارتیں وغیرہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں آجائیں تو ہر بچے اور مخلص مؤمن کا فرض ہے کہ انہیں چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے ، اس کو تقویٰ کہتے ہیں۔ور نہ یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ دنیا کمانے سے روکتا ہے درست نہیں۔صحابہ تجارتیں کرتے تھے،