انوارالعلوم (جلد 21) — Page 618
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۸ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔حضرت عائشہ نے حضرت علیؓ کے مقابلہ میں فوج کی کمان کی اور خود اونٹ پر سوار ہو کر فوج کو لڑایا۔۱۵ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں عورتیں فنونِ جنگ سے بھی واقف ہوا کرتی تھیں۔پھر ان میں ایسی دلیری تھی کہ اپنے حق کی خاطر خلیفہ وقت کے سامنے بھی بولنے سے نہیں رکتی تھیں۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک دفعہ یہ سوال پیدا ہوا کہ مہر کتنا دیا جائے۔اب تو ہندوستان میں اس بارہ میں بہت سی لغویات پیدا ہو گئی ہیں مثلاً مہر باندھ دیا جاتا ہے ایک من مچھروں کے پر۔حضرت عمر کے زمانہ میں بھی مرد کی طاقت سے زیادہ مہر باندھا جانے لگا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔مردوں نے کہا ٹھیک ہے۔عورتوں میں سے ایک صحابیہ آپ کے پاس آئی اور کہا عمر ! تم نے یہ کیا نئے مسائل بتانے شروع کر دیئے ہیں قرآن کریم میں تو لکھا ہے کہ تم اپنی بیویوں کو اگر ڈھیروں ڈھیر سونا بھی دے دو تو اُن سے واپس نہ لو۔اگر ڈھیروں ڈھیر سونا کسی نے دینا ہی نہیں تو اس آیت کے قرآن میں لائے جانے کی کیا تی ضرورت تھی حضرت عمر نے اُسی وقت اپنا حکم منسوخ کر دیا اور فرمایا مدینہ کی عورتیں عمرؓ سے بھی زیادہ قرآن کریم جانتی ہیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک لفظ کو بجھتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔ایک جنگ میں حضرت علی کے بڑے بھائی جعفر شہید ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے چند افراد ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے باقی سب کافر تھے اور مکے میں رہ گئے تھے۔جب واپس آئے تو عورتوں نے اپنے اپنے مردوں پر رونا شروع کیا اُس وقت رونے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور دریافت فرمایا یہ شور کیسا ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ مدینہ کی عورتیں اپنے بھائیوں ، بچوں اور خاوندوں پر رو رہی ہیں۔انسان کے ساتھ آخر بشریت تو لگی ہوئی ہے آپ کی نظر جب جعفر کے گھر پر پڑی تو وہاں بالکل سناٹا تھا۔آپ کی طبیعت میں رقت پیدا ہوئی اور فرمایا جعفر پر تو رونے والا کوئی نہیں۔یہ معمولی بات تھی آپ کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ حضرت جعفر پر رویا جائے اور نہ آپ رونا پسند کرتے تھے۔صرف یہ نظارہ دیکھ کر کہ ارد گر دعورتیں اپنے مردوں پر رو رہی ہیں لیکن جعفر کا گھر سونا پڑا ہے