انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 613

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۳ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔گھبرا کر اُٹھیں اور صفا اور مروہ ٹیلوں پر جا کر ادھر اُدھر پانی تلاش کرنا شروع کیا۔آپ پہلے صفا پر چڑ جاتیں اور ارد گرد دیکھتیں کہ شاید کوئی قافلہ آ رہا ہو تو میں اُسے توجہ دلاؤں کہ ہمیں کچھ پانی دے۔جب اُنہیں کوئی قافلہ نظر نہ آتا تو وہ مروہ پر چڑھ جاتیں اور دوسری طرف دیکھتیں تا کوئی قافلہ نظر آئے اور اُس سے پانی حاصل کیا جائے۔صفا اور مروہ کے درمیان نیچی زمین تھی۔حضرت ہاجرہ جب وہاں آتیں تو بچے سے نظر ہٹ جاتی اس لئے یہ درمیانی فاصلہ آپ دوڑ کر طے کرتیں۔اسی لئے صفا اور مروہ کے درمیانی فاصلہ کو حاجی لوگ دوڑ کر طے کرتے ہیں۔بہر حال حضرت ہاجرہ صفا اور مروہ کے درمیانی فاصلہ کو دوڑ کر طے کرتی تھیں تا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دیکھتی رہیں۔اسی طرح آپ نے سات چکر لگائے۔ساتو میں چکر پر فرشتہ کی آواز آئی کہ اے ہاجرہ! جا اپنے بچے کے پاس۔خدا تعالیٰ نے وہاں پانی کا انتظام کر دیا ہے۔چنانچہ آپ واپس آئیں اور آپ نے دیکھا کہ جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام تڑپ رہے گی تھے وہاں ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔ہے جس کو زم زم کہتے ہیں اور جس کا پانی حاجی لوگ بطور تبرک لاتے ہیں۔غرض یہ مکہ کی بنیاد تھی اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی دوبارہ بنیا درکھی تو کہا اے خدا! اس شہر کے رہنے والوں میں ایسا نبی مبعوث کیجیؤ جو انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے ، انہیں تیری کتاب سکھائے ، اس کی حکمتیں سنائے اور ان کے قلوب کا نتزکیہ کرے۔۵ گویا ملکہ کی جو بنیا د رکھی گئی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے لئے تھی۔اس بنیاد میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں شامل تھے۔یعنی جی ایک مرد اور ایک عورت۔غرض اللہ تعالیٰ نے شروع سے ہی جب سے اسلام کی بنیا د رکھی عورت اور مرد دونوں کا حصہ رکھ کر چلایا تھا لیکن بدقسمتی سے دنیا میں جب بھی تغیرات ہوتے ہیں کئی چیزیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔عام طور پر جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت صرف مرد ہی کرتے ہیں مگر تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ملکوں میں عورتیں بھی حکومت کرتی رہی ہیں اور مردان کے تابع ہوتے تھے۔عورتوں کی حکومت میں بھی ظلم ہوتے تھے کیونکہ دونوں میں اتفاق اور اتحاد کی روح نہیں پائی جاتی اور دنیا صرف دونوں کے اتفاق و اتحاد سے ہی چل سکتی ہے ورنہ