انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 610

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۰ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔دوستوں کا واسطہ دے کر مدد حاصل کرتا ہے لیکن ان کا تم خیال نہیں کرتے۔ان کی خاطر تم قربانی کرنے سے بھاگتے ہو اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُم رقيباً یہ مت سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تم پر نگران ہے۔اس کے مقابل پر بائبل میں جو عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب ہے۔انسان کی پیدائش کا یوں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو ایک باغ میں رکھا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ حضرت آدم اکیلے ہیں ان کا کوئی ساتھی بھی ہونا چاہئے۔تب حضرت آدم جب سور ہے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایک پہلی کاٹی اور ایک عورت کی بنائی اور حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ یہ عورت تمہارے ساتھ رہے گی اور چونکہ وہ عورت نر سے پیدا ہوئی تھی اس لئے وہ ناری کہلائی ہے۔بہر حال ابتدائے زمانہ سے عورت اور مرد کی آپس میں مشارکت پائی جاتی ہے اور ان دونوں پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور مذہبی کتب ہمیشہ سے ان پر بحث کرتی آئی ہیں۔بائبل میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عورت اس لئے پیدا کی گئی ہے تا مرد جنت میں اُداس نہ ہو لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں اس لئے پیدا کئے گئے تا ان کے ذریعہ جنت بسے اور خدا تعالیٰ کا قانون دنیا میں جاری ہو۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو ان دونوں مقاصد میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔بائبل کہتی ہے کہ عورت کو اس لئے پیدا کیا گیا تا وہ مرد کوخوش رکھے لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ مرد اور عورت کی پیدائش کی مشتر کہ غرض یہ ہے کہ تا دنیا آباد ہو اور دونوں مل کر خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کریں۔دونوں کے ذمہ انصاف ، عدل اور حسن سلوک کی دنیا بسانی ہے۔اب ظاہر ہے کہ جو قرآن کریم نے مقصد پیش کیا ہے وہ بہت عالی شان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے انسان کے ذمہ کیا کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور کونسے ایسے ذرائع ہیں جن پر چل کر مرد و عورت دونوں اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر سکتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے اسلام کی بنیا د رکھی مگر اس بنیاد میں عورت کا حصہ بھی شامل کیا گیا ہے۔حدیث میں آتا ہے اور ضمناً قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ