انوارالعلوم (جلد 21) — Page 598
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۹۸ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو جائے مگر اسے نیچا کرنے میں اس کی مددہم کیوں کریں۔ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو درجہ حاصل ہے وہ ہر شخص سمجھتا ہے لیکن آپ کے درجہ کے متعلق سب سے پہلا مضمون جو میں نے لکھا اور وہ تشخیذ الا ذبان میں شائع ہوا اُسے پڑھنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل نے مجھے فرمایا۔میاں تمہارا مضمون تو اچھا ہے مگر اسے پڑھ کر ہمارا دل خوش نہیں ہوا پھر آپ نے فرمایا۔ہمارے بھیرہ کی ایک مثال ہے کہ اونٹ چالی تے ٹو ڈا بتائی، یعنی اونٹ کی تو چالیس روپے قیمت ہے اور اُس کے بچہ کی بیالیس روپے۔کسی نے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ اونٹ کی قیمت تو بہر حال ایک بچے سے زیادہ ہونی چاہئے۔بیچنے والے نے کہا اونٹ کے بچہ کی قیمت اس لئے زیادہ ہے کہ یہ اونٹ بھی ہے اور اونٹ کا بچہ بھی۔یہ مثال دے کر آپ فرمانے لگے۔میاں ہم تو امید رکھتے تھے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی بڑھ کر مضمون لکھو گے لیکن ہماری یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ہمارے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پوزیشن ایک بڑی پوزیشن تسلیم کی جاتی ہے لیکن میرے اندر ہمت پیدا کرنے کیلئے حضرت ی خلیفہ مسیح الاوّل مجھے یہ بات کہنے سے بھی نہ ڑ کے کہ تمہیں مرزا صاحب سے بھی بڑھ کر مضمون کی لکھنا چاہئے تھا۔پس میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ہم اپنے کاموں میں اولوالعزمی قائم نہ رکھیں۔اسلام میں کوئی Priesthood یا مولویت نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کیلئے ہر ایک کیلئے راستہ کھلا ہے۔پس ہمیں نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ کبھی بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ پہلوں سے بڑھ نہیں سکتے۔پس اپنے اندر حقیقی روحا نیت اور خدا تعالیٰ کا سچا عشق پیدا کرو اور اس بارہ میں کسی بڑی سے بڑی مشکل اور مصیبت کی بھی پرواہ نہ کرو۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے رسول ! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو تم پیچھے رہ جاتے اور میں اُس پر ایمان لے آتا لے مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں تم نے صرف ایک جھوٹا بیٹا بنالیا ہے۔اگر مسیح فی الواقعہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہوتے تو سب سے پہلے میں ایمان لاتا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ کہیں جارہے تھے۔آپ کے ساتھ آپ کے ایک بڑے مخلص مرید بھی تھے جن کو آپ کا اپنے بعد خلیفہ بنانے کا ارادہ