انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 579

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۹ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو میرے اندر فلاں خوبی پائی جاتی ہے تمہیں بھی یہی کہتا ہوں کہ تم اس خوبی کو اپنے اندر پیدا کرو کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی۔تم ایک اجنبی کے سامنے یہ کہہ سکتی ہو کہ میں نے بھی جھوٹ نہیں بولا لیکن تم اپنی بیٹی کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ فلاں دن ابا آئے اور وہ کسی بات پر خفا ہوئے تو باوجود اس کے کہ کھانا موجود تھا تم نے غصہ میں آکر کہہ دیا کہ کھانا بلی کھا گئی ہے اور اس طرح تم نے جھوٹ بولا۔ایک مشہور مصنف لکھتا ہے کہ تم اپنے بچوں کے سامنے اپنے آپ کو بطور ایک ناصح اور مشفق کے تو پیش کرو مگر نمونہ کے طور پر نہیں ورنہ تمہارے گھر کا انتظام سب درہم برہم ہو جائے گا۔مثلاً جب تم خود پورا سچ نہیں بولتیں اور تمہاری اس کمزوری سے تمہارے گھر والے واقف ہیں تو تم یہ نہ کہا کرو کہ بیٹی میں کتنا سچ بولنے والی ہوں کیونکہ اگر تم ایسا کہو گی تو تمہاری بیٹی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔وہ خواہ زبان سے نہ کہے اپنے دل میں ضرور کہے گی کہ ہماری اماں خود تو جھوٹ بولتی ہے اور کہتی یہ ہے کہ میں کتنا سچ بولنے والی ہوں۔لیکن اگر تم یہ کہو کہ بیٹی ہم سے بڑے بڑے قصور سرزد ہوئے ہیں لیکن خدا کرے تم ان قصوروں سے بچ جاؤ تو اس بات کا اس کے دل پر گہرا اثر ہوگا اور وہ سمجھے گی کہ یہ جو کچھ کیا جا رہا ہے مجھے ہوشیار کرنے کے لئے کیا چی جا رہا ہے۔پس حالات سے واقف انسان کے سامنے قلی کہہ کر بات کرنا اور اپنا نمونہ اُس کے سامنے پیش کرنا کوئی معمولی بات نہیں اور یہ جرات سوائے کسی بڑی ہمت اور استقلال اور سچائی کے پابند انسان کے جس کا عمل اعلیٰ درجہ کا متقیا نہ ہو اور کسی میں نہیں ہوسکتی۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوا کہ جا اور اپنی قوم کو ہمارے عذاب سے ڈرا تو آپ نے ساری قوم کو جمع کیا اور فرمایا اے لوگو! اگر میں یہ کہوں کہ مکہ کی اس پہاڑی کے پیچھے ایک بڑا بھاری لشکر اُترا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری اس بات کو مان لو گے؟ واقعہ یہ تھا کہ مکہ کی اس پہاڑی کے پیچھے کوئی بڑا لشکر چھپ ہی نہیں سکتا تھا جی کیونکہ پیچھے میدان ہی میدان تھا جس میں میلوں میل تک چیزیں دکھائی دیتی تھیں اور اُس کی میدان میں کسی لشکر کا اُترنا اور مکہ والوں کا اس سے بے خبر رہنا ایسی ہی ممکن بات تھی جیسے کوئی یہ کہے کہ اس جلسہ گاہ میں جس میں اس وقت تم بیٹھی ہوئی ہو ، تین ہاتھی کھڑے ہیں۔اگر کوئی شخص