انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 557

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۵۷ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب طرح پانچ سو صفحہ کی کتاب میں سے بعض دفعہ پچاس ساٹھ صفحات ہی پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں۔بہر حال کتب کا مطالعہ تم اتنا وسیع کرو کہ ہر طالبعلم دو سال کے بعد جب یہاں سے نکلے تو وہ دو دو، تین تین سو کتاب پڑھ چکا ہو اور اس کے دماغ میں اتنا تنوع ہو کہ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھے اور کسی مسئلہ پر گفتگو شروع ہو تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اُس کے سامنے کوئی نئی چیز پیش کی جارہی ہے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جو میں پڑھ چکا ہوں۔میں اس موقع پر اساتذہ کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری زنجیر کا سب سے کمزور خانہ اس وقت وہی ہیں۔انہیں اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہئے ، اپنے اندر کی دینداری اور محبت باللہ کی روح پیدا کرنی چاہئے۔ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو محض نو کر سمجھتے ہیں حالانکہ اگر ہمارا مقصد صرف لڑکوں کو بڑھانا ہوتا تو اس غرض کے لئے۔غیر احمد یوں کو بھی رکھا جا سکتا تھا تمہارا کام صرف لڑکوں کو درسی کتب پڑھا دینا کافی نہیں بلکہ تمہیں اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہئے اور تمہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی وقت اللہ تعالیٰ اسلام کو دنیا میں غالب کرنا چاہتا ہے اس سکیم کے راستہ میں جو شخص بھی روڑا بن کر کھڑا ہو گا وہ مارا جائے گا اور اس کا ایمان ضائع چلا جائے۔پس اپنے ایمان کو مدنظر رکھتے ہے ہوئے تمہیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ تمہارا انجام کیا ہوگا۔آج بے شک تم اپنے ایمانوں کو مضبوط سمجھتے ہو لیکن اگر تمہارے اندر یہی بے حسی رہی تو کسی نہ کسی وقت تمہیں ٹھوکر لگ جائے گی کیونکہ جب تک انسان اپنے فرائض کو نہ سمجھے خدا تعالی کی تلوار اُس کی گردن پر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور اُس کا انجام خطر ناک ہوتا ہے۔بے شک ہم تمہیں اس کام کے بدلہ میں کچھ گزارہ بھی دیتے ہیں مگر یہ گزارہ اصل چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ تمہیں یہ نظر آنا چاہئے کہ ہمیں جو کچھ دے رہا ہے خدا دے رہا ہے۔ہاتھ بے شک بندوں کے ہیں لیکن ان ہاتھوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کام کر رہی ہے۔اور یہی وہ نقطہ نگاہ ہے جو تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ روشن کر سکتا ہے۔ہے۔یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی لوگ ہی دیتے تھے مگر وجہ کیا ہے کہ وہ ہر تائید کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے اس کی وجہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما