انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 475

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۵ اسلام اور ملکیت زمین انہوں نے دے دیا تھا۔لیکن اقلیت کی رپورٹ لکھنے والوں کا ذہن اِدھر نہیں گیا کہ یہ فتویٰ کی امام ابو یوسف کا ہی نہیں امام محمد کا بھی ہے جن کو حکومت میں کوئی رُتبہ حاصل نہیں تھا اور وہ امام ابو یوسف سے اُتر کر امام ابو حنیفہ کے دوسرے نمبر کے شاگر د سمجھے جاتے تھے۔گوانہوں نے بوجہ وفات امام ابوحنیفہ تکمیل تعلیم امام ابو یوسف سے کی۔سوال یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے اگر ہارون الرشید کو خوش کرنے کے لئے شریعت کو بدل دیا تھا تو امام محمد نے کس کو خوش کرنے کے لئے شریعت کو بدل دیا۔امام ابو یوسف کے پایہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ائمہ اہل حدیث جو کہ فقہاء کی بہت کم تعریف کیا کرتے ہیں اُنہوں نے امام ابو یوسف کی نہایت اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے۔مثلاً یحیی بن معین کہتے ہیں کہ علمائے فقہ میں سے امام ابو یوسف سے زیادہ کثیر الحدیث اور صحیح الروایت اور کوئی شخص نہیں۔اور اُن کے متعلق یحیی بن معین نے یہ الفاظ بھی کہے ہیں کہ امام ابو یوسف صاحب حدیث اور صاحب السنتہ ہیں۔۹۸ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا تتبع کرتے ہیں اور رسول کریم کے طریق عمل پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الاَ عَدَاءُ۔خوبی وہی ہوتی ہے جس کا مخالف بھی اقرار کرتا ہو۔یہ اقرار اُن لوگوں کا ہے جو علمائے فقہاء کے خلاف تھے۔اُن کا یہ کہنا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں پیش پیش ہیں ایک ایسی شہادت ہے جس کو آجکل کا کوئی آدمی کسی صورت میں بھی رد نہیں کر سکتا۔اُن کی نسبت تاریخوں سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ خلیفہ ہارون کی بیویوں کی اور حکام کے خلاف فیصلے کرتے تھے بلکہ خود خلیفہ ہارون کی مرضی کے خلاف بھی فیصلے کیا کرتے تھے۔اس رپورٹ میں شاہ عبدالعزیز صاحب کا بھی ایک حوالہ لکھا گیا ہے جس میں یہ درج ہے کہ ہندوستان کی تمام زمین مسلمانوں کی ہے اور بیت المال کی ہے اور یہ کہ زمیندار مینجر وں کی طرح ہیں۔یہ حوالہ بھی صحیح درج نہیں۔شاہ صاحب نے اس بات پر بحث نہیں کی کہ ہندوستانی کی زمین کی ملکیت کی نوعیت کیا ہے بلکہ اُنہوں نے عشر پر بحث کی ہے اور یہ بتانا چاہا ہے کہ