انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 457

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۷ اسلام اور ملکیت زمین شخص کے پاس اتنی زمین ہو کہ وہ اُسے آباد نہ کر سکے تو وہ زائد زمین یا تو اپنے بھائیوں کو مفت کی کاشت کرنے کے لئے دے دے یا حکومت اُس سے وہ زمین ضبط کر لے اور دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دے۔ان میں سے پہلا حوالہ رافع بن خدیج کی حدیث کا پیش کیا جاتا ہے۔یہ حدیث بخاری میں درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔عن رافـع بـن خــديـج قـال نـهـا نـا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان لنا نافعًا اذا كانت لاحد نا ارض ان يعطيها ببعض خراجها او بد راهم وقال اذا كانت لا حدكم ارض فاليمنحها اخاه اوليزرعها - ۷۳ے یعنی حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لئے نفع بخش تھی اور وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زیادہ زمین ہوتی تھی تو وہ کسی دوسرے شخص کو بٹائی یا روپیہ کے بدلہ میں زمین دے دیتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس زمین ہوتو یا تو اُسے اپنے بھائی کو کاشت کرنے کے لئے مفت دے دیا کرو یا خود کاشت کیا کرو۔اسی طرح رافع بن خدیج سے یہ روایت بھی آتی ہے۔ان رسول الله له اتی بن حارثة فرأى زرعا فى ارض ظهير فقال ما احسن زرع ظهير قالوا ليس لظهير قال اليس ارض ظهير قالوا بلى ولكنه زرع فلان - قال فخذوا زرعكم وردوا عليه النفقة قال رافع فاخذنا زرعنا ورددنا اليه النفقة ۴ے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اس جگہ پر آئے جہاں بنو حارثہ کی زمینیں تھیں۔آپ نے ایک کھیتی دیکھی جو ظہیر کی زمین میں تھی اور فرمایا ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ ظہیر کی تو نہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ زمین ظہیر کی نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن اس میں فلاں شخص نے کھیتی کی ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی کھیتی لے لو اور اس کا خرچ اُس کو دے دو۔رافع کہتے ہیں اس پر ہم نے فصل لے لی اور اُس کا خرچ اُسے دے دیا۔ایک روایت رافع بن خدیج سے اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ عـن عــمـــه ظهیر بن رافع قال ظهير لقد نهانا رسول الله الله كان بنا رافقا قلت ما قال رسول الله صلى الله علم - قال ماتصنعون بمحا قلكم؟ قلت نؤاجرها على الربيع و على الا وسق من