انوارالعلوم (جلد 21) — Page 446
انوار العلوم جلد ۲۱ دسواں باب اسلام اور ملکیت زمین اُن لوگوں کا جواب جن کے نزدیک بڑی زمینوں کی ملکیت یا زمینوں کا بٹائی پر دینا جائز نہیں یا جن لوگوں کے نز د یک حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت کے موقع پر زمینداروں سے زمینیں واپس لے لے اب میں اُن لوگوں کے اعتراضات کو لیتا ہوں جو زمین کی ملکیت کے بارے میں یہ پہلو اختیار کرتے ہیں کہ بڑی زمینوں کا رکھنا جائز نہیں ، نہ زمین کا بٹائی پر دینا جائز ہے، نہ مقاطعہ پر دینا جائز ہے۔یا تو انسان خود کاشت کرے یا لوگوں کو مفت کاشت پر دے دے اور یہ کہ قرآن کریم کی نص سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اُس نے سب بندوں کے لئے اس کو پیدا کیا ہے اور چونکہ زمین کو اُس نے سب بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے کسی ایک شخص کے ہاتھ میں بہت سی زمین جمع نہیں ہوسکتی کیونکہ اس سے دوسرے حصہ داروں کو نقصان پہنچتا ہے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ زمین خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کے لئے پیدا کی ہے اس لئے بہت بڑی زمین کسی ایک ہاتھ میں جمع نہیں ہوسکتی کیونکہ اس سے دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اس کا جواب میں پہلے باب میں دے آیا ہوں اور ثابت کر چکا ہوں کہ قرآن کریم کی رُو سے زمین ہی نہیں بلکہ تمام اشیاء خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کے فائدے کے لئے پیدا کی ہیں۔اگر اتنی زمین کسی شخص کے ہاتھ میں جمع نہیں ہو سکتی جس کی آمدن تین ہزار روپیہ ماہوار تک پہنچتی ہو تو یقیناً حکومت کسی شخص کو اتنی تنخواہ بھی نہیں دے سکتی جس کی مقدار تین ہزار روپیہ ماہوار تک پہنچتی ہو اور نہ کسی ڈاکٹر اور وکیل کو اجازت ہو سکتی ہے کہ وہ اس حد سے