انوارالعلوم (جلد 21) — Page 389
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۹ اسلام اور ملکیت زمین اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَالسَّلَامُ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ اسلام اور ملکیت زمین اس وقت پاکستان اور ہندوستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں میں طاقت حاصل کرنے کے لئے ایک رسہ کشی جاری ہے۔دوسرے ملکوں کا تو یہ قاعدہ ہے کہ پارٹیاں بعض اصول کیلئے بنائی جاتی ہیں اور ان اصول کے ماننے والے اُن میں شامل ہو جاتے ہیں۔جوں جوں کوئی پارٹی طاقت پکڑتی جاتی ہے وہ اپنے تجویز کردہ اصول کو ملک میں جاری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔شروع شروع میں دوسری پارٹیوں سے مل کر اور جب اُسے اتنا اقتدار حاصل ہو جائے کہ وہ منفر دانہ طور پر اپنے اصول کو ملک میں جاری کر سکے تو پھر بلا اشتراک غیرے وہ اپنے تجویز کردہ تھی اصول کو قانون کی شکل میں بدل دیتی ہے لیکن ہندوستانی ممالک میں بدقسمتی سے پارٹیاں پہلے بنتی ہیں اور اصول بعد میں تجویز کئے جاتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان و ہندوستان میں زیادہ تر پارٹیوں کی بنیاد مذہب پر ہے مذہب ابھی تک اس برصغیر میں ایک متحرک اور قوی ہے طاقت ہے۔عوام الناس کی اکثریت مذہب پر عمل کرے نہ کرے وقتی طور پر اگر جوش میں آتی ہے تو مذہب کے نام سے ہی آتی ہے۔اس لئے جب کبھی کوئی تحریک اس برصغیر میں اُٹھتی ہے تو اس کا محرک مذہب ہی ہوتا ہے گوشکل اُسے سیاسی دے دی جاتی ہے۔اور اگر کوئی سیاسی تحریک بھی اُٹھے تو بعد میں وہ مذہبی رنگ اختیار کر جاتی ہے۔جیسے کانگرس جب ہندوستان میں بنائی گئی تو اُس وقت خالص سیاسی تھی بلکہ خالص تمدنی تھی لیکن آہستہ آہستہ وہ ہند و تحریک بنتی چلی گئی اور مسلمان عناصر اس سے الگ ہوتے چلے گئے۔خلافت کی تحریک کے زمانہ میں پھر مسلمان اس