انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 340

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۰ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں جو دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔اور ہمارے لئے ایسے سامان پیدا فرما کہ ہم دنیا میں ہر مشکل اور مصیبت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہا کریں اور ہمیشہ ایک جھنڈے کے نیچے جمع رہا کریں تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کو ہم دنیا میں پھیلا سکیں اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو اس دنیا کے چپہ چپہ پر قائم کر سکیں اور وہ محسن ترین وجود جو آج مظلوم ترین وجود بنا ہوا ہے اس کی شان اور عظمت کو دوبارہ دنیا میں قائم کر سکیں۔مجھے اس وقت یاد آ گیا ، ایک واقعہ تھا جس کا اس بات کے کہتے کہتے میری آنکھوں کے سامنے نقشہ کھنچ گیا۔ایک جنگ کے موقع پر انصار اور مہاجرین میں جھگڑا ہو گیا۔نوجوان ایسے موقع پر غلطیاں کر ہی بیٹھتے ہیں کسی نوجوان نے طعنہ دے دیا کہ ارے مہاجر و ! تم اپنے گھروں سے نکالے ہوئے آئے اور ہم نے تمہیں پناہ دی۔اس پر مہاجرین بھی جوش میں آ گئے اور اُنہوں نے کہا ہم وہ ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے اسلام کی شناخت کی توفیق بخشی تم ہمارا کہاں مقابلہ کر سکتے ہو۔بات بڑھتی چلی گئی جھگڑا طول پکڑتا چلا گیا اور آخر ایسی صورت اختیار کر گیا کہ یکے بعد دیگرے اس میں دوسرے انصار اور مہاجر بھی شریک ہو گئے اور یوں معلوم ہونے لگا جیسے آج مہاجر اور انصار آپس میں لڑ ہی پڑیں گے۔اُس وقت عبد اللہ بن ابی ابن سلول دیرینہ منافق جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے مدینہ کی بادشاہت کے خواب دیکھ رہا تھا بلکہ بعض روایتوں کے مطابق اس کے لئے تاج بھی بنایا جا رہا تھا اور فیصلہ کیا جا چکا تھا کہ اُسے تاج پہنا کر بادشاہ بنا دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی وجہ سے اُس کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے اور وہ دل ہی دل میں بغض و کینہ کی آگ میں ہر وقت جلنے لگا۔جب اُس نے دیکھا کہ اس کی طرح انصار اور مہاجر آپس میں لڑ رہے ہیں تو اُس نے سمجھا کہ یہ انصار کو بھڑ کانے کا ایک اچھا موقع ہے وہ آگے بڑھا اور اُس نے کہا اے انصار! یہ تمہاری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ تم ان کی لوگوں کے منہ سے ایسی باتیں سن رہے ہو۔میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم ایسا قدم مت اُٹھاؤ مگر تم نہ مانے اب شکر ہے کہ میری بات تمہاری سمجھ میں آ رہی ہے۔تم ذرا ٹھہرو اور مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ کم بخت نَعُوذُ بِاللهِ ) مدینہ کے سب