انوارالعلوم (جلد 21) — Page 305
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۵ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح اپنے جھگڑے کی تفصیل بیان کی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا نہیں معلوم وہ کیسے قاضی تھے جن کے پاس یہ مقدمہ جاتا رہا اور وہ اِس کا فیصلہ نہیں کر سکے۔یہ ایک سیدھی سادی بات ہے جب ہمیں اس بات کا پتہ نہیں لگ سکتا کہ یہ بچہ کس عورت کا ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بچہ کو دونوں میں آدھا آدھا بانٹ دیا جائے۔چنانچہ اُنہوں نے حکم دیا کہ چھری لاؤ میں ابھی اس بچہ کو کاٹ کر اِن میں آدھا آدھا تقسیم کر دیتا ہوں۔جب اُنہوں نے کہا چھری لاؤ میں اس بچہ کو کاٹ کر دونوں میں تقسیم کر دوں تو جس کا بچہ بھیڑ یا اُٹھا کر لے گیا تھا وہ کہنے لگی خدا آپ کا کی بھلا کرے کیسے انصاف کی بات ہے جو آپ نے کہی۔مگر جس کا بچہ تھا وہ کہنے لگی حضور! میں نے جھوٹ بولا ہے یہ بچہ میر انہیں اسی کا ہے بے شک اسی کو دے دیا جائے۔آخر اس کی مامتا تھی وہ ی حضرت سلیمان علیہ السلام کی تدبیر کو تو نہ سمجھی اُس نے خیال کیا کہ یہ سچ سچ اس کے دو ٹکڑے کرنے والے ہیں اس پر اُسے خیال آیا کہ بچہ خواہ مجھے نہ ملے یہ کم از کم جیتا تو رہے۔چنانچہ اُس نے بڑی لجاجت سے کہا کہ حضور ! بچہ اسے ہی دے دیں میں نے جھوٹ بولا تھا کہ یہ میرا بچہ ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے اور اُنہوں نے وہ بچہ اس کے سپر د کر دیا جو حقیقی ماں تھی تھ اور دوسری عورت کو سزا دی۔تو مائیں بعض دفعہ اپنا حق بھی قربان کر دیتی ہیں مگر یہ نہیں چاہتیں کہ ان کا بچہ ہلاک ہو۔اگر پاکستان واقع میں تمہارا ہے تو پھر تمہیں اس کی مضبوطی کے لئے قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی۔صرف یہ کہہ کر تم اُن قربانیوں سے آزاد نہیں ہو سکتے کہ یہ ہماری چیز ہے ہم اسے جس طرح چاہیں رکھیں بلکہ ہماری چیز کے معنی یہ ہیں کہ تمہیں دوسروں سے زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی۔یہ تو میں نے ایک مثال دی ہے اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں مثالیں ہیں۔یہ زمینداروں کا ضلع ہے اور زمیندار اپنے ٹیکس کو بچا نہیں سکتا کیونکہ گورنمنٹ جانتی ہے کہ اس کے پاس اتنی زمین ہے اور اتنا اس کا معاملہ ہے۔گورنمنٹ کا ملازم بھی پکڑا جاتا ہے کیونکہ گورنمنٹ اسے تنخواہ کی دے رہی ہوتی ہے اور وہ جانتی ہے کہ اسے کتنی تنخواہ ملتی ہے لیکن باقی لوگ ٹیکسوں میں برابر کھینچا تانی کرتے رہتے ہیں۔انگریز کے وقت تو ایک ہندوستانی کہہ سکتا تھا کہ انگریز حکمران ہے میں اسے روپیہ کیوں دوں لیکن اب تو پاکستان تمہارا اپنا بچہ ہے اپنے بچے کے لئے تمہیں