انوارالعلوم (جلد 21) — Page 278
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۸ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کا سے میں نے خیال کیا کہ جلدی آ جاؤں گا۔میری جوتی اندر تھی میں جوتی پہن کر ساتھ کے دروازہ سے اُتر آیا۔میری شامت اعمال تھی کہ جب میں اندر گیا تو آپ نے اُن لوگوں سے جو آپ کی مجلس میں موجود تھے فرمایا دیکھو! یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات پر عمل کرتے ہی ہوئے کوٹ پہن کر اور ہاتھ میں سوئی لے کر باہر آئے گا اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے تمام لوگ دروازہ پر کھڑے ہو گئے۔ادھر میں اسی طرح آ گیا۔مجھے اوپر سے یوں آواز آئی جیسے کسی کو شر مندہ کیا گیا ہو۔جب میں واپس آیا تو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل نے فرمایا میاں ! تم نے مجھے آج بہت شرمندہ کیا۔میں نے سب لوگوں سے یہ کہا تھا کہ دیکھو! یہ حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام کی بات پر عمل کرے گا اور کوٹ پہن کر باہر آئے گا اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ تم یونہی کی آ گئے۔میں نے کہا میں نے آپ کے ادب کی وجہ سے یہ چاہا تھا کہ جلدی آ جاؤں اس لئے بغیر کوٹ پہنے اور سوٹی ہاتھ میں لئے باہر نکل آیا۔یہ واقعہ سن کر کئی احمدیوں نے بھی اُس وقت پگڑیاں پہنی شروع کر دی تھیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے بعض نے ٹوپیاں پہنی شروع کر دی ہیں، بعض نے نکٹائیاں لگانی شروع کر دی ہیں اور بعض داڑھیاں منڈواتے ہیں اور اُنہیں یہ حس ہی نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔اس وقت ان کے باپ دادا کی کی عزت کا سوال تھا انہیں چاہیے تھا کہ وہ خاندانی روایات کو قائم رکھتے اور اپنے باپ دادا کے اچھے نمونہ کو قائم رکھتے لیکن اُنہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ مجھے کہیں سے ایک رقم ملی اور میں نے ایک کوٹ اور پتلون سلوائی اور ایک ٹائی بھی خریدی۔اس لباس میں میں نے ایک تصویر بھی کھنچوائی۔یہ کوٹ اور پتلون تین چار دن ہی پہنی تھی کہ انہیں بدل دیا۔یہ وہ دن تھے جب گورداسپور میں کرم دین بھیں والا مقدمہ چل رہا تھا متواتر تاریخ پڑنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہیں رہنا شروع کر دیا۔عارضی قیام کے لئے وہاں ایک مکان لے لیا گیا تھا، ہمارے مہمان بھی وہیں آجاتے تھے۔اُس زمانہ میں بہت کم احمدی تھے اُن دنوں ہمارے ایک احمدی دوست محمد ایوب صاحب تھے جو غالباً صو بیدار میجر تھے اور مراد آباد کے رہنے والے تھے وہ اُن دنوں نئے احمدی ہوئے تھے اور نیا اخلاص لے کر آئے تھے اس مقدمہ پر وہ بھی