انوارالعلوم (جلد 21) — Page 270
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۷۰ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ توقعات ایک پائی فی روپیہ کے حساب سے دیا کرے گا۔سکول کے طلباء میں سے پرائمری والے دو پیسے، مدل والے ایک آنہ اور ہائی سکول کے طلباء ڈیڑھ آنہ کے حساب سے چندہ ادا کیا کریں۔کالج کے طلباء چار آنے ماہوار کے حساب سے چندہ ادا کیا کریں۔عہد یداری کے لیے سب - بڑی شرط دینداری ہوگی۔ہر ووٹر کو ووٹ دیتے ہوئے باقاعدہ شہادت دینی پڑا کرے گی کہ یہ شخص اُس کے علم میں کیا واقعی پنجوقت کا نمازی ہے، راست باز ہے، غرباء پرور ہے، جھوٹا نہیں اور پابند نظام سلسلہ ہے۔(آخر میں آپ نے فرمایا کہ ) چونکہ اب میں صدر ہوں گا لہذا اگر میری صحت نے اجازت دی تو میں آپ کے پروگرام کی میں حصہ لے کر بعض اور موقعوں پر خطاب کروں گا چونکہ پرانے نظام کو سمجھنا اور اُس سے فائدہ اُٹھا نا ضروری ہے تا کہ جو اچھا کام ہو چکا ہے وہ ضائع نہ ہو اس لیے اس سال کے لیے میں مرزا ناصر احمد ہی کو نا ئب صدر مقرر کرتا ہوں۔سیکرٹری کی سفارش آپ لوگ کریں۔اگر اُسے معقول سمجھوں گا تو میں مقرر کر دوں گا ورنہ واقفین میں سے یا جس کو اس کام کے اہل سمجھوں گا مقرر کر دوں گا۔جسے دوسرے وکیلوں اور ناظروں کی طرح تبدیل بھی کیا جا سکے گا لیکن اس کے لیے عمر کی 66 کی شرط نہیں ہوگی۔“ تقریر کو ختم کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ) احمدی نوجوان کے معنی یہ ہیں کہ اُسے اپنی زبان پر قابو ہو، وہ محنتی ہو ، وہ دیندار ہو، وہ پنجوقت کا نمازی ہو، وہ قربانی وایثار کا مجسمہ ہو اور کلمہ حق کو زیادہ سے زیادہ پہنچانے میں نڈر ہو۔بے شک یہ لیفٹ رائٹ بھی بُری چیز نہیں لیکن خواہ کوئی چیز کتنی ہی اچھی ہو پھر بھی ہر چیز اپنے مقام پر ہی زیب دیتی ہے۔“ (الفضل یکم نومبر ۱۹۴۹ء)