انوارالعلوم (جلد 21) — Page 256
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵۶ اسلام اور موجودہ مغربی نظریے میری غرض اس عنوان سے یہ نہیں ہو سکتی کہ ایک طرف اسلام کے نظریے بیان کر دوں اور دوسری طرف مغربی نظریے بیان کروں بلکہ میری غرض یہ ہے کہ اسلام کے نظریوں کو مغربی نظریوں پر جو فوقیت حاصل ہے اُس کو بیان کروں لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس کے متعلق کچھ کہوں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تمہید کے طور پر میں اس امر کو واضح کروں کہ اسلام اپنی کسی فوقیت کا قائل بھی ہے یا نہیں تا یہ نہ ہو کہ ہماری مثال ” مدعی ست اور گواہ چست“ والی ہو جائے۔یعنی قرآن تو یہ دعوی نہ کرتا ہو کہ اس کے نظریے اس زمانہ یا آئندہ زمانہ کے نظریوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور میں فوقیت ثابت کرنے لگ جاؤں۔" اس غرض کیلئے ایک تو وہ آیات جو میں نے ابھی پڑھی ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام کو یہ فوقیت حاصل ہے مگر ان کے علاوہ قرآن کریم کی ایک اور آیت بھی نہایت واضح اور اہم ہے اور وہ آیت یہ ہے کہ اليَوْمَ المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُم نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الاسلام دینا، ۲ اوپر کی آیات سورہ مائدہ کے ساتویں رکوع کی کی ہیں اور یہ آیت سورہ مائدہ کے پہلے رکوع کی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا ہے اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو بطور دین کے پسند کیا ہے۔یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی جس کے ۸۰ دن کے بعد آپ وفات پاگئے۔بعض صحابہ اور بہت سے مفسرین اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ آیت قرآن کریم کی آخری آیت ہے یعنی اس کے بعد کوئی اور کلام الہی نازل نہیں ہوا لیکن بعض نے اس سے اختلاف کیا ہے۔بہر حال ی اگر یہ آخری آیت نہیں تو چند نہایت ہی آخری آیتوں میں سے ایک آیت ہے اور بتاتی ہے کہ:۔اول: شریعت اسلامی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل کر دی گئی ہے اب کوئی ایسا حکم نازل نہیں ہوسکتا جو ان حکموں کو بدل دے۔اس سے ہمیں یہ اصول معلوم ہوا کہ اسلام میں جس قانون کو جی پیش کیا گیا ہے خواہ اسے غیر مذاہب والے مانیں یا نہ مانیں ایک مسلمان کو بہر حال یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے پوری طرح مکمل کر دیا گیا ہے اور دنیا کو جتنے قوانین کی ضرورت تھی وہ سب اس میں آگئے ہیں۔ایسے قانون تو بے شک بن سکتے ہیں جو وقتی اور مقامی طور ہے