انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 217

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱۷ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں لیکن احمدیوں میں یہ بات بہت کم پائی جاتی ہے۔میں نے احمدیوں میں صرف پانچ سات آدمی ے احمدیوں میں یسے دیکھے ہیں جو نفلی روزے رکھنے کے عادی ہیں۔پس چاہئے کہ مہینہ میں ایک، دو، تین یا چار جتنے روزے بھی رکھے جاسکیں ، رکھے جائیں۔اس سے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو روزے رکھنے والے کو ثواب ملتا ہے اور دوسرے اور لوگوں میں بھی روزے رکھنے کی تحریک ہوتی ہے۔روزہ رکھنے والا جب اپنے دوستوں سے ملے گا اور وہ اُسے کھانے کے لئے کوئی چیز پیش کریں گے تو وہ یہ کہہ کر کہ میرا روزہ ہے انکار کر دے گا ، اس سے اُنہیں بھی روزے رکھنے کی تحریک ہوگی۔غرض رمضان کا مہینہ در حقیقت مؤمن کے لئے ٹرینگ کا زمانہ ہے اور یہ اس لئے آتا ہے تا اس میں مشق کرنے کے بعد اس سے فائدہ اُٹھایا جائے۔اس لئے نہیں آتا کہ اس کے گزر جانے کے بعد انسان بیٹھ جائے اور سمجھ لے کہ اس نے جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا۔رمضان کی برکات بے شک بہت زیادہ ہیں لیکن یہ آتا اسی لئے ہے تا ہمیں دوسرے دنوں میں بھی روزے رکھنے کی عادت ڈالے اور اپنے اور اپنے عزیزوں، دوستوں اور ہم مذہبوں کے لئے روحانی ترقیات کے حصول اور درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کرنے کی عادت ڈالے۔پس احباب کو رمضان المبارک سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوسرے ایام میں بھی نفلی روزے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔(الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۶۰ء) بخاری کتاب الصوم باب حق الجسم في الصوم بخاری کتاب الصوم باب الوصال