انوارالعلوم (جلد 21) — Page 214
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱۴ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں دو دفعہ عید کی نماز رکھی گئی ہے اور پھر روزانہ فرضی نمازوں کے علاوہ دوسرے نوافل بھی ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقت کے بعد مؤمن کے لئے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ اس کی روح تازہ ہوتی رہے۔اسی طرح حج ہے حج بیشک سال میں ایک دفعہ مقرر کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے عمرہ لگا دیا ہے جو سارا سال ہوتا رہتا ہے۔گویا عمرہ کے ذریعہ حج کے فائدہ کو عام کر دیا گیا ہے اور اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ مؤمنوں کو حج کے علاوہ عمرہ بھی کرنا چاہیے تا کہ حج کے جو فوائد ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کیا تھ جا سکے۔اسی طرح زکوۃ اگر چہ سال میں ایک دفعہ مقرر ہے لیکن صدقہ تو ایک دفعہ نہیں جب بھی تی کوئی محتاج یا بیکس نظر آئے مؤمن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے۔یہ نہیں کہ جب وہ کسی محتاج و بیکس کو دیکھے تو کہہ دے کہ سال گزرے گا تو زکوۃ دے دوں گا اگر وہ اس طرح کرتا ہے تو وہ مجرم ہے کیونکہ زکوۃ دینے سے اُس نے تسلیم کر لیا ہے کہ صدقہ دینا ضروری چیز ہے۔اس کے بعد اگر وہ صدقہ نہیں دیتا ، غریبوں اور بیکسوں کی مدد نہیں کرتا تو وہ اقراری مجرم ہے۔جب اُس کی نے مان لیا ہے کہ غریب کی مدد کرنا فرض ہے تو پھر وہ اس پر کیوں عمل نہیں کرتا۔پس گوز کو چھ سال میں ایک دفعہ مقرر ہے مگر صدقہ کو جاری کر کے خدا تعالیٰ نے اس کو سارے سال میں پھیلا دیا ہے۔اسی طرح حج کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے عمرہ رکھ دیا ہے تا کہ اس کے فوائد ہمیشہ حاصل کئے جائیں۔غرض روزانہ پانچ وقت کی نماز کے ساتھ نوافل لگا کر ، سال میں ایک دفعہ دی جانے والی زکوۃ کے ساتھ صدقہ لگا کر اور حج کے ساتھ عمرہ لگا کر خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ان عبادتوں کے لئے وقت کا معین کرنا صرف بطور مشق کے ہے اور مومن کو یہ بتانے کے لئے ہے کہ وہ دوسرے اوقات میں بھی ایسا کرتا رہے۔اسی طرح رمضان بھی یہ بتانے کے لئے آتا ہے کہ سال کے باقی ایام میں بھی روزے رکھا کرو تعیین وقت اصلی نہیں بلکہ صرف مؤمن کو باقی ایام میں ایسا کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے۔گویا رمضان کا مہینہ مؤمن کے لئے روحانی ٹرینگ کا زمانہ ہے اور اس میں جس غرض کے لئے مشق کرائی جاتی ہے اگر وہ پوری نہ ہو تو پھر اس کا فائدہ ہی کیا ؟ سپاہی کو پریڈ، گولی چلانا ، چوری چھپے لیٹ کر ، گھٹنے کے بل بیٹھ کر دشمن