انوارالعلوم (جلد 21) — Page 205
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰۵ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر (ii) یہ سلیس اُردو میں ہوں گی جسے ایک معمولی اُردو جانے والا بھی سمجھ سکے۔(iii) ان میں کسی قسم کی اصطلاح استعمال نہیں کی جائے گی۔اصطلاحوں کی وجہ سے مضمون سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی پوچھے کہ قضیہ موجبہ یا قضیہ سالبہ کیا ہے؟ تو آپ لوگوں میں سے پچانوے فیصدی ایسے ہوں گے جو یہ سمجھتے ہوں گے کہ پتہ نہیں یہ کتنے علم کی بات کی گئی ہے حالانکہ قضیہ موجبہ کے معنی ہیں وہ آیا اور قضیہ سالبہ کے معنی ہوتے ہیں وہ نہیں گیا۔یا یہ کہنا کہ اُس نے ایسا کر دیا یا وہ چیز ہوگئی یہ قضیہ موجبہ ہے۔اور ایسا نہیں ہوا یہ قضیہ موجبہ ہے۔لیکن نام سن کر آپ حیران ہو جائیں گے کہ یہ کیا چیز ہے لیکن جب اس کا ترجمہ کر دیا جائے تو ہر ایک کہے گا اچھا یہ بات ہے یہ تو میں بھی جانتا ہوں۔پس ان کتب کے لکھنے میں یہ شرط ہوگی کہ ان کی میں کسی قسم کی کوئی اصطلاح استعمال نہ کی جائے۔اسی طرح کسی قسم کا حوالہ نہ دیا جائے۔ہاں حوالے وغیرہ حاشیہ پر لکھے جا سکتے ہیں۔اسی طرح اصطلاحوں کا بھی حاشیہ میں ذکر کیا جاسکتا ہے تا ایک معمولی علم والا اپنے علم کو اعلیٰ درجہ کے علم میں تبدیل کر سکے۔مثلاً منطقی کہتے ہیں یہ دلیل استقرائی ہے سننے والا گھبرا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے حالانکہ اس کے صرف اتنے ہی معنی ہوتے ہیں کہ وہ چیز جو تم دیکھتے ہو کہ ہوتی چلی آئی ہے دلیل استقرائی ہے۔مثلاً بچہ ماں سے پیدا ہوتا ہے اس لئے کہ دنیا میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے۔چنانچہ دیکھ لو تمہاری دادی سے بچہ پیدا ہوا دادا سے پیدا نہیں ہوا۔پڑدادی سے پیدا ہوا پڑ دادے سے پیدا نہیں ہوا۔لکڑ دادی سے پیدا ہوا لکٹر دادے سے پیدا نہیں ہوا اور اسی کا نام دلیل استقرائی ہے اور تم میں سے کون جی ہے جو یہ نہیں سمجھتا کہ بچہ ہمیشہ ماں سے پیدا ہوتا ہے۔ایک نیم پاگل سے بھی یہ بات پوچھی تی جائے تو وہ فوراً یہ بات بتا دے گا لیکن منطقی کہیں گے یہ دلیل استقرائی ہے اور سننے والا جو اُ سے نہیں جانتا حیران رہ جائے گا کہ یہ کیا بلاء ہے۔لیکن چونکہ کبھی کبھی بعض شوقین لوگ علماء کی مجلس می میں بھی چلے جائیں گے اور اُن کی باتوں سے لطف اندوز ہوں گے اس لئے حاشیہ میں ان کی اصطلاحات کا بھی ذکر کر دیا جائے گا۔اس طرح اُسے یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ بر کلے اور کانٹ نے کیا کہا ہے بلکہ کتاب کے حاشیے میں ہی یہ لکھا ہوا ہوگا کہ بر کلے اور کانٹ کا یہ مقولہ ہے یا یہ فلاں کتاب میں لکھا ہوا ہے۔غرض جب بھی وہ چاہے اپنے عام علم کو اصطلاحی علم