انوارالعلوم (جلد 21) — Page 196
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹۶ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر تو مجھے کون عقلمند کہے گا کہ میں نے یونہی مفت میں تباہی ڈال دی۔پھر انہوں نے کہا اے میرے شاگرد! تم بتاؤ تو سہی میں تمہیں اس حکومت کے بارہ میں جس کے ماتحت تم رہتے ہو کیا تعلیم دیا کی کرتا تھا۔فریتو نے کہا آپ ہمیں یہی تعلیم دیا کرتے تھے کہ اس حکومت کا ہمیشہ فرمانبردار رہنا چاہئے۔سقراط نے کہا اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس چیز کی ساری عمر تعلیم دیتا رہا اب اگر میں موت کے ڈر سے اس ملک سے بھاگ جاؤں تو دنیا یہی کہے گی نا کہ میں یہاں کی زندگی میں جھوٹے دعوے کیا کرتا تھا پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا حکومت ظالم ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس ملک سے نکلنا اور کی اس کے قانون کو توڑنا جائز ہے؟ دنیا کی کوئی حکومت اپنے آپ کو ظالم نہیں کہتی۔اگر میں یہاں سے پوشیدہ کسی اور ملک میں بھاگ جاؤں تو میری بات دوسروں پر کیا اثر کرے گی۔ہر ایک یہی کہے گا کہ یہ تو وہی بات ہے جس پر اس نے خود عمل نہیں کیا۔میں اِس حکومت میں پیدا ہوا اور دعوے کے بعد چالیس سال تک اس ملک میں رہا کیا چالیس سال کے عرصہ میں میرے لئے اس ملک کو چھوڑ جانے کا موقع نہ تھا؟ حکومت یہ کہے گی کہ اگر ہم ظالم تھے تو یہ چالیس سال کے دوران میں کیوں باہر نہیں چلا گیا بلکہ یہ تو ہمارے انصاف کا اتنا قائل تھا کہ یہ شہر سے باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔میں ان باتوں کا کیا جواب دوں گا ؟ غرض اس نے ایک لمبی بحث کے بعد کہا خلاصہ یہ ہے کہ میں یہیں رہوں گا اور حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہوگا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے سقراط کا یہ دعویٰ تھا کہ اُسے الہام ہوتا ہے اور اُس نے اپنے کی الہام کی ایک معین صورت کو پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاز آج نہیں پہنچے گا کل پہنچے گا۔میرے خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہارے لئے جنت کے دروازے پرسوں کھول دیئے جائیں گے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص خدا تعالیٰ سے تائید حاصل کرنے والا تھا۔اُس نے اپنی جگہ سے نکلنے کا نام نہیں لیا۔ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں قادیان سے کیوں باہر نکلا ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں قادیان سے نہیں نکلنا چاہیے تھا اور میں نے خود بھی کہا تھا کہ میں قادیان سے نہیں نکلوں گا بلکہ میں نے بتایا ہے کہ سقراط جو ایک مامور من اللہ تھا اُس کی زندگی میں بھی ایک واقعہ پیش آیا اور اُس نے اپنے شہر سے نکلنے سے انکار کر دیا۔(الفضل ۱۶ / جولائی ۱۹۶۱ء) 66