انوارالعلوم (جلد 21) — Page 162
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۶۲ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی کہ تم ابھی واپس جاؤ یا یہاں بیٹھ کر ہماری جگہ کھانا پکا ؤ، ہم خود دشمن سے لڑنے کے لئے چلی جائیں گی۔ابوسفیان کا ایک مشہور تاریخی فقرہ ہے جو اس موقع پر اُس نے کہا۔اُس نے اپنے بیٹے معاویہ کی طرف دیکھا اور کہا معاویہ ! گھوڑوں کا رُخ پھیر دو۔دشمن کی ماراتنی تکلیف دہ نہیں جتنی عورتوں کی یہ باتیں ہمارے لئے تکلیف دہ ہیں۔چنانچہ پھر وہ واپس لوٹے اور اُنہوں نے دشمن پر فتح حاصل کی۔نہیں میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ تمہارے مرد اس امتحان میں فیل ہو رہے ہیں وہ لڑائی پر جانے سے ڈرتے اور گھبراتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قربانی کرنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں مگر ایک کافی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس میدان میں قدم رکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔تم یہ سن کر حیران ہوگی کہ لاہور شہر جس میں پانچ ہزار احمدی رہتے ہیں اس شہر میں سے باوجود توجہ دلانے کے اور باوجود اس کے کہ میں خود اُن میں موجود تھا اور انہیں توجہ دلاتا رہا ایک سال کی میں ایک آدمی بھی فوج میں نہیں گیا۔اس کے مقابلہ میں میرے ایک گھر میں سے میرے سات لڑکے جا چکے ہیں۔ایک قادیان میں بیٹھا ہے جو ہندوستانی باشندہ ہے اور شرعاً اور قانونا حکومت ہند کا وفادار ہے۔دو کالج میں پڑھ رہے ہیں اور باقی سب چھوٹے ہیں گویا جتنے جاسکتے تھے وہ سب کے سب جاچکے ہیں مگر لاہور کے پانچ ہزا ر احمدیوں میں سے ایک بھی نہیں گیا۔یہی کچ حال اور شہروں کا ہے مثلاً گجرات، سیالکوٹ وغیرہ۔ان میں سے بہت سے علاقے ہیں جو انگریز کے وقت میں پیسوں کی خاطر خوب فوجی خدمت کرتے تھے مگر اب پاکستان بننے پر وہ اس کی طرح خدمت نہیں کرتے شاید اس لئے کہ اب وہ تنخواہیں اور آرام نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے زیادہ تر وہ لوگ قربانی کر رہے ہیں جو غیر زمیندار ہیں اور جن کے متعلق زمیندار حقارت کے ساتھ یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ لوگ لڑنا نہیں جانتے۔لڑنا جانتے ہیں تو ہم جانتے ہیں مگر قربانی کے میدان میں وہی لوگ اپنی جانوں کو پیش کر رہے ہیں۔دیکھو! ایک دن دنیا میں اسلام نے غالب آنا ہے یہ لوگ جو کبھی پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ روپیہ پر نوکریاں کرتے پھرتے تھے ، جو جمعدار اور صو بیدار بن کر اترائے پھرتے تھے ، آج