انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xiii

انوار العلوم جلد ۲۱ Λ تعارف کتب لحاظ سے وہ ایک نئی دنیا ، ایک نئی زمین اور ایک نئے آسمان کے بنانے میں شامل ہو رہے ہیں۔“ اس کے بعد حضور نے نہایت رقت آمیز رنگ میں قرآن کی وہ دعائیں بلند آواز سے پڑھنا شروع کیں جو حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو وادی مکہ میں چھوڑتے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں۔جلسہ میں شامل تمام دوست حضور کے ساتھ ان دعاؤں کو دُہراتے گئے۔حضور نے فرمایا:۔وو حضرت ابراہیم کے ذریعہ انسان کو ذبح کر کے قربانی کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ دین حقہ کے لیے ایسے قربانی کرنے والے پیدا کرے جو اپنی جان کو مار کر اس دنیا کے جد و جہد سے بھا گنا نہیں چاہتے بلکہ دنیا میں زندہ رہ کر دنیا کی کشمکشوں میں سے گزرکر دنیا کی مصیبتوں کو جھیل کر دنیا کی تکالیف کو برداشت کر کے اپنی مردانگی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں یہی وہ حقیقی قربانی ہے جو شاندار ہوتی ہے۔“ حضور نے حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی بے مثال قربانی کے واقعات کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا اور اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرتے ہوئے عرض کی :۔”اے خدا! جس طرح تو نے مکہ اور مدینہ اور قادیان کو برکتیں دیں اسی طرح تو ہمارے اس نئے مرکز کو بھی مقدس بنا اور اسے اپنی برکتوں سے مالا مال فرما۔یہاں پر آنے والے اور یہاں پر بسنے والے، یہاں پر مرنے والے اور یہاں پر جینے والے سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے عاشق اور اُس کے نام کو بلند کرنے والے ہو اور یہ مقام اسلام کی اشاعت کے لیے، احمدیت کی ترقی کے لیے، روحانیت کے غلبہ کے لیے ، خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لیے ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اونچا کرنے کے لیے اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے بہت اہم اور اونچا اور صدر مقام