انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 85

انوار العلوم جلد ۲۱ ۸۵ ہر عبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر ہوگا۔یورپ کے کسی اور ملک میں چلے جائیں وہاں بھی آپ کو ایک ہی قسم کا لباس نظر آئے گا لیکن ہمارا کیا حال ہے؟ سیالکوٹ میں اور قسم کا لباس ہے، لاہور میں اور قسم کا لباس ہے بلکہ ہر ضلع کا الگ لباس ہے۔ایک ہی قسم کا لباس ہونے سے قومی اتحاد پیدا ہوتا ہے لیکن یہاں ہر ضلع میں الگ الگ لباس ہے گویا ہم ایک نیا عالم ہیں۔جانوروں میں مشابہتیں پائی جاتی ہیں ، جنگل میں بند ربھی پایا جاتا ہے، سو ر بھی پایا جاتا ہے، لومڑ بھی پایا جاتا ہے، کوئی شیر ہوتا ہے اور کوئی چیتا ہوتا ہے لیکن اُن میں سے ایک قسم کی جانوروں کی نسل کو لیا جائے تو سب میں مشابہت پائی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں یہ مشابہت بہت کم ہے اسی لئے ہمارے دلی اتحاد میں بہت کمزوری پائی جاتی ہے۔عربوں کو دیکھ لو اُن میں یہ چیز پائی جاتی ہے اُن کا لباس ایک ہی طرح کا ہوتا ہے لیکن یہاں پنجابی لباس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔دو ضلعوں میں یہ لباس اور کا اور ہو جاتا ہے کسی علاقہ میں پاجامہ پہنا جاتا ہے اور کسی علاقہ میں تہہ بند باندھا جاتا ہے اور صوبہ کے کئی حصوں میں دھوتی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔پھر پگڑیوں میں بھی بہت اختلاف ہے۔غرض ہمارے لباس میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔جو تیوں کو ہی لے لو اُن میں بھی بہت فرق پایا جاتا ہے لیکن یورپین جوتیوں میں بہت کم فرق پایا جاتا ہے۔عام طور پر وہ ایک سی شیپ کی ہوتی ہیں لیکن یہاں پشاور کی جوتیاں اور شیپ کی ہوتی ہیں ، گجرات کی جو تیاں اور شیپ کی ہوتی ہیں۔اس طرح ظاہر طور پر کوئی ایک چیز بھی ہمارے ملک میں ایسی نہیں پائی جاتی جس سے معلوم ہو سکے کہ ہم میں اتحاد پایا جاتا ہے۔اس اتحاد کو پیدا کرنے کے لئے ہمیں اپنے قلب کی صفائی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے سے پہلے فرمایا کرتے تھے صفیں ٹھیک کر لو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔بھلا صفوں کے ٹیڑھا ہونے کا دلوں کے ٹیڑھا ہونے سے کیا تعلق۔اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر ظاہر ٹھیک نہ ہو تو باطن بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔قومی کیریکٹر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہماری زبان ایک ہو، ہمارے لباسوں میں کوئی اختلاف نہ پایا جائے اور جب تک یہ چیز نہ پائی جائے تمام پاکستانی آپس میں متحد نہیں ہو سکتے۔