انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 51

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء سوال آتا ہے، جب قوم اور وطن کا سوال آتا ہے تو تم پوچھتے ہو کہ آیا یہ جہاد ہے؟ گویا تم نے اپنی ساری عمر میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جو جہاد نہیں تھا۔تم نے جو کام بھی کیا ہے اُسے جہاد سمجھ کر ہی کیا ہے۔جب سے تمہیں ہوش آئی ہے تم کافر ہی مارتے رہے ہو۔یہ کتنی بڑی شرم کی بات ہے کہ جب قوم اور وطن کے لئے قربانی کرنے کا سوال آیا تو تم پوچھتے ہو کیا یہ جہاد ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کشمیر کی جنگ میں وہ شرطیں نہیں پائی جاتیں جن شرائط کے پائے جانے سے یہ جہاد کہلا سکتی ہے مثلاً جہاد کی یہ شرط ہے کہ ایک امام ہومگر یہاں کوئی امام نہیں۔مگر یہ سوال تو تب ہو سکتا تھا جب تمہارے سب کام جہاد کے مطابق ہوتے۔جب تم سب کا م عقل کے ساتھ کرتے ہو اور یہ سمجھ کر نہیں کرتے کہ یہ جہاد ہے تو یہاں اس سوال کی کیا ضرورت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَ عِرْضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جو شخص اپنے مال کو اور اپنی عزت کو بچاتے ہوئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہے۔آپ نے اس لڑائی کو جہاد نہیں کہا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے مال یا اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔تم میں سے ہر وہ شخص جو اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کرتا ہوا یا اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہوا مارا جاتا ہے وہ یقیناً شہید ہے۔جو لوگ مشرقی پنجاب سے اپنی بیویوں ، بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو بچا کر لے آئے ہیں میں اُن پر کوئی اعتراض نہیں کرتا مگر جو لوگ اُنہیں وہیں چھوڑ کر آئے ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کی رگ حمیت اب بھی نہیں پھڑ کی ؟ آخر تم میں سے کتنے ہیں جو اپنے وطن کی خاطر یا اپنی قوم کی خاطر لڑائی کیلئے کشمیر جا رہے ہیں اگر اس میں جہاد سے کم ثواب ہے تو کیا لوگ ہر اس کام کو جس کا ثواب تھوڑا ہو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے اُسے زیادہ ثواب ملتا ہے۔اب اگر جماعت کے ساتھ نماز نہ ملے تو کیا تم کی نماز نہیں پڑھا کرتے؟ کیا تم نماز چھوڑ دیا کرتے ہو؟ پھر فرض لیں، کیا تم فرضوں کی وجہ سے سنتوں کو چھوڑ دیا کرتے ہو اس لئے کہ اُن کا ثواب کم ہے یا کیا تم سنتوں کی وجہ سے نوافل کو چھوڑ دیا کرتے ہو اس لئے کہ اُن کا ثواب کم ہوتا ہے۔تم کہتے ہو کہ ساری چیزیں ہی اپنی اپنی جگہ پر ضروری ہیں اور وہ اپنے اپنے رنگ میں اہم ہیں پھر یہاں کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہم تھوڑے