انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 47

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء سے کوئی دریغ نہیں کرے گا اور وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے ملک کو آزا د ر کھنے کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوگا۔تب بھی ہندوستان کی تیس کروڑ آبادی کے مقابلہ میں ہمارا صرف تین کروڑ ہوگا یہ بھی ایک غیر طبعی مقابلہ ہے مگر بہر حال اتنی بات تو ہے کہ ایک اور پونے دس کی نسبت ہو گی۔دُنیوی تدبیر کے لحاظ سے یہ نقطہ نگاہ ہماری تسلی کا موجب نہیں ہوسکتا لیکن ایک اور امرایسا ہے جو ہمارے لئے تسلی کا موجب ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے ہے کہ اگر تم سچے مومن بن جاؤ تو تم میں سے ایک مؤمن دس کا فروں پر غالب آ سکتا ہے۔اب ی اگر سوا تین کروڑ آدمی کے اندر اسلام کا حقیقی درد ہو اور وہ اپنے اندر جرات اور ایثار پیدا کرتی لیں ، اگر وہ اپنے اندر قربانی کی روح پیدا کر لیں تو یہ سوا تین کروڑ پینتیس کروڑ کا فروں پر غالب آ سکتے ہیں گویا اگر ہمارے لئے کامیابی کی کوئی مادی صورت موجود نہیں تو روحانی صورت ضرور موجود ہے۔اگر تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک دس پر غالب آیا ہو تو قرآن کریم کی ایک آیت ضرور کہتی ہے کہ اگر تم سچے مومن بن جاؤ تو تم قلیل ہو کر کثیر پر غالب آ سکتے ہو۔قرآن کریم کے یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر ہم بچے طور پر کوشش کریں اور اسلام کے اصول کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں تو ہم اپنے ہمسایوں پر غالب آ سکتے ہیں۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر بیداری پیدا کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ہم بھی یہ اُمید نہیں کر سکتے کہ ہم سارا وقت سینماؤں اور گانوں میں لگا دیں لیکن لڑائی کے وقت فرشتے ہماری پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر ہمیں دشمن پر غلبہ دے دیں گے۔جیسے پرانے زمانوں میں فقیروں کا دستور تھا کہ جب کوئی فقیر آ کر پیسہ مانگتا اور دوسرا شخص انکار کر دیتا تو وہ کہتا تھا۔اُلٹا دوں چودہ طبق۔حالانکہ اگر چودہ طبق اس کے قبضہ میں ہوتے تو وہ پیسہ پیسہ کیوں مانگتا۔اسی طرح اگر ہم بھی یہ سمجھتے رہیں گے کہ فرشتے اُتریں گے اور وہ فنونِ جنگ کا علم ہمارے سینوں میں بھر دیں گے تو یہ ایک نا معقول بات ہوگی اگر دنیا میں پہلے کبھی ایسا ہوا ہوتا تب بھی کوئی بات تھی لیکن اگر ایسا کبھی نہیں ہوا تو ہمیں بھی وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے اختیار کیا تھا، ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا جو عیسی علیہ السلام کی قوم نے اختیار کیا تو تھا ،ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں صحابہ نے