انوارالعلوم (جلد 21) — Page 31
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء اب دیکھو اس الہام میں ہمارے قادیان سے دوسری جگہ جانے کی بھی خبر ہے اور پھر واپس آنے کی بھی خبر ہے۔PARTITION کے اعلان سے پہلے صبح کے دس بجے کے قریب مجھے یہ الہام ہوا تھا اور رات کو یہ اعلان ہوا کہ گورداسپور انڈین یونین میں شامل کر دیا گیا ہے۔پس یہاں طلبہ کی کوئی وجہ ہی نہیں۔جب اس پیشگوئی کا وہ حصہ پورا ہو گیا جو انذار کا تھا تو اس کا وہ حصہ کیوں پورا نہیں ہو گا جو تبشیر کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے اور تمام صوفیاء اس پر متفق ہیں کہ جب اس کی طرف سے سختی اور تلخی کی کوئی خبر دی جاتی ہے تو وہ دعا اور گریہ وزاری کی سے ٹل جاتی ہے لیکن اس کی طرف سے بشارت کی خبر نہیں مل سکتی کیونکہ انذار کی خبر کو ٹلا دینا رحم اور خوبی ہے اور وعدے کو ٹلا دینا بے وفائی اور بد عہدی ہے اور خدا تعالیٰ رحم تو کر سکتا ہے بے وفائی اور بدعہدی نہیں کر سکتا۔اس لئے وہ انذار کی خبر کو ٹلا سکتا ہے خوشی کی خبر کو نہیں ٹلا سکتا۔پس جب وہ بات جو اصول کے مطابق ٹل سکتی تھی نہیں ملی تو جو نہیں مل سکتی اُس کے متعلق تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہو کہ وہ واقع نہیں ہوگی۔دوسرا شبہ جو قادیان کے واپس ملنے کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب قادیان ملنا ہے تو پھر ربوہ کی تعمیر کی کیا ضرورت ہے اور ایک نیا مرکز کیوں تعمیر کیا جا رہا ہے؟ اس کی کئی وجوہ ہیں اوّل پیشگوئیوں کو پورا کرنے کیلئے بھی جد و جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ مکہ آپ کو واپس دیا جائے گا مگر کیا مکہ کو واپس لینے کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے جہاد نہیں کیا لڑائیاں نہیں کیں اور وہ تمام کی تمام تدابیر اختیار نہیں کیں جن سے فتح حاصل کی جاسکتی ہے فتح مکہ کے لئے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو متواتر جنگوں میں سے گزرنا پڑا۔آپ نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈالا بیسیوں صحابہ کو شہید کروایا صرف اس لئے کہ مکہ واپس مل جائے۔اگر آپ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے تو کیا یہ پیشگوئی پوری ہو سکتی تھی پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود نہایت اعلیٰ شان رکھنے کے جس کی گرد کو بھی ہم نہیں پہنچ سکتے اس پیشگوئی کے ہوتے ہوئے باقی بیر کو ترک نہیں کیا تو ہم کون ہیں جو اس پیشگوئی کا بہانہ بنا کر اور اس کی آڑ لے کر اس تدابیر