انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 621

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۱ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔ذکر کرتا ہے حالا نہ نبی حضرت عیسی علیہ السلام تھے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی تاریخ کو کیوں محفوظ رکھا گیا؟ اس سے صرف یہی بتانا مقصود تھا کہ یہ عمارت تمہاری اپنی بنائی ہوئی ہے اس لئے تمہارا بھی اس میں حصہ ہے۔انسان جو کام کرتا ہے اس سے اُسے پیار ہوتا ہے۔اپنے بنائے ہوئے گھر کوکوئی شخص بر باد نہیں کرتا۔بچے ریت کے گھروندے بناتے ہیں مگر جب کوئی دوسرا بچہ انہیں گرا دیتا ہے تو وہ اس سے لڑ پڑتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے عورتوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ دین میں ان پر ویسی ہی ہے قربانیاں عاید ہوتی ہیں جیسی مردوں پر۔یہ نہ کرنا کہ تم اسے چھوڑ دو اور سمجھ لو کہ یہ صرف مردوں کی چیز ہے ایسا کروگی تو دین کمزور ہو جائے گا۔اس زمانہ میں جو نازک دور مسلمانوں پر آیا ہے وہ ایسا ہے کہ آج سے چار پانچ سو سال پہلے کوئی اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔اگر آج سے چار پانچ سو سال قبل کے مسلمانوں کو اس زمانہ کی حالت نقشہ پر دکھا دی جاتی تو اس پر کوئی اعتبار نہ کرتا لیکن آج بھی اگر نقشے پر رنگ دے دیئے جائیں اور بتایا جائے کہ پرانے زمانہ میں مسلمانوں کی حکومت فلاں فلاں جگہ تک پھیلی ہوئی تھی اور اب اس کی حکومت فلاں جگہ تک ہے یا پُرانے زمانہ میں مسلمانوں کی علمیت اتنی تھی کی اور اب اتنی ہے تو ہر عظمند عورت اور ہر عظمند مرد کوشش آ جائے گا۔ہم معمولی غموں کے قصے سنتے ہیں تو رونا آجاتا ہے مگر اسلام کا دکھ تو اتنا بڑا ہے کہ ہر مسلمان جس کو اسلام سے ذرا بھی تعلق ہے اُس پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔یہی یورپ جو آج ساری دنیا پر حکومت کر رہا ہے اس کا اکثر حصہ مسلمانوں کے ماتحت تھا۔پولینڈ پر مسلمانوں کی حکومت تھی ، آسٹریا پر مسلمان قابض تھے، ہنگری ان کے قبضہ میں تھا، فرانس کے ساحلوں تک وہ پھیلے ہوئے تھے، جنوبی اٹلی پر ان کی حکومت تھی ، فن لینڈ اور سپین پر ان کی حکومت تھی، ادھر ایشیا میں سوائے جاپان کے باقی سب ملکوں اور جزائر پر مسلمانوں کا قبضہ تھا، افریقہ کے کثیر حصوں پر ان کی حکومت تھی۔امریکہ اُس کی وقت معلوم نہ تھا لیکن معلوم دنیا میں سوائے چند حبشی قبائل کے کوئی ملک ایسا نہ تھا جس پر مسلمان کی قابض نہ تھے اور پھر جہاں قبضہ نہ تھا وہاں ان کی ایسی دہشت اور رُعب چھایا ہوا تھا کہ وہاں کی کے رہنے والے محض مسلمانوں کے رحم پر تھے۔اُس زمانہ میں صرف ایک حکومت تھی جو مسلمانوں کی