انوارالعلوم (جلد 21) — Page 600
انوار العلوم جلد ۲۱ کوشش کرو کہ تمہاری انگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو بچتا ہے۔میں سمجھتا ہوں جب یہ جلسہ ہوا تو ایک خادم کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وقت کی کی تقسیم کیسے ہوگی۔پروگرام کا ہمیشہ ناقص ہونا انتظام کی کمی پر دلالت کرتا ہے۔عید کے روز بھی جب مصافحہ کے وقت انتظام کے لئے میں نے قائد مجلس خدام الاحمدیہ کو بلایا تو اُنہوں نے جو طریق اختیار کیا وہ ماہر فن کا طریق نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کام تو ہو گیا مگر ایسا نہیں جس کی اُن سے امید کی جا سکتی تھی۔اگر ایسا انتظام وہ قادیان میں کرتے تو یقیناً نا کام رہتے۔میرے نزدیک جب خدام میں یہ نظام پایا جاتا ہے کہ ہر ۹ خدام کا ایک گروپ لیڈر ہے تو قائد کو جو کام کرنا چاہئے تھا وہ یہ تھا کہ وہ اپنے دوسا ئقین کو بلاتے اور انہیں حکم دیتے کہ تم میں سے ایک اس طرف کا انتظام کرے اور دوسرا دوسری طرف کا۔بہر حال ہر چیز نظام کے نیچے آنی چاہئے ورنہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم قائم کرنے کی غرض و غایت پوری نہیں ہوسکتی۔پھر میرے نزدیک دعوتوں میں جس طرح پھل رکھا جاتا ہے اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ چیز کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّهُ الْمُؤْمِن اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا " یعنی کلمه حکمت مومن کی ملکیت ہے وہ جہاں اسے دیکھے لے لے۔ہمارے ہاں تو رواج نہیں مگر یورپین ممالک میں ایک بفے سسٹم (Buffe System) ہوتا ہے وہ اس جیسے مواقع پر بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔صرف دو میزیں رکھ کر اُن پر پھل لگا دیا جاتا اور پھر مدعووین سے کہہ دیا جاتا کہ آئیے جو پسند ہو کھا لیجئے۔اس طرح بڑی آسانی سے یہ کام دس منٹ میں ختم ہو جاتا اور جلسہ کی اصل غرض کے لئے زیادہ وقت بچ جاتا۔سرو (Serve) کرنے اور پھل اُٹھا کر لانے کا وقت بھی ضائع نہ ہوتا۔میرے نزیک آئندہ اس قسم کی تقریبات کا انتظام بفے سسٹم کی طرز پر ہونا چاہئے تا کہ اخراجات بھی کم ہوں اور وقت بھی کم صرف ہو۔نظم کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اور لوگ تو محض رسم کے طور پر ان موقعوں پر نظم پڑھی دیتے ہیں مگر ہمارا ظاہری رسوم سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری ان موقعوں پر نظمیں پڑھنے سے کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور وہ مختلف مواقع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض دفعہ میں بھی نظم کہہ دیتا ہوں اور دوسرے لوگ بھی مختلف نظمیں پڑھ دیتے ہیں ں کیونکہ