انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 599

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۹۹ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو تھا اور ان کے علاوہ آپ کے اور بھی مرید تھے۔رستہ میں آپ کو ایک خوبصورت بچہ نظر آیا آپ کھڑے ہو گئے اور اُس بچہ کو بوسہ دیا۔آپ کو بوسہ دیتے دیکھ کر آپ کی نقل میں آپ کے مریدوں نے بھی اُس بچہ کو بوسہ دینا شروع کر دیا۔مگر وہ بڑے مرید جن کو آپ کا اپنے بعد خلیفہ بنانے کا ارادہ تھا وہ ایک طرف کھڑے رہے اور اُنہوں نے بوسہ دینے میں آپ کی اتباع نہ کی۔جب آگے چلے تو دوسرے مریدوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ یہ بڑا مخلص بنا پھرتا ہے حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے اس بچہ کو بوسہ دیا مگر اس نے آپ کی اتباع کی نہیں کی۔وہ چپ رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔کچھ ڈور آگے گئے تو ایک بڑ بھونجا دانے بھون رہا ہے تھا اُس نے آگ میں پتے ڈالے تو ایک شعلہ اونچا ہوا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء آگے بڑھے اور آگ میں منہ ڈال کر اُسے چوم لیا۔اس پر وہ مرید بھی آگے بڑھا اور اس نے بھی آگ کو چوم لیا اور باقی مریدوں کو اشارہ کیا کہ وہ بھی آگ کو چومیں مگر وہ سب پیچھے ہٹ گئے اور ان میں سے کوئی بھی آگے نہ بڑھا۔پہلے تو ایک بچہ ملا تھا اور وہ خوبصورت لگا تھا جب حضرت نظام الدین نے اسے بوسہ دیا تو آپ کی اتباع میں انہوں نے بھی اُسے چوم لیا مگر کی یہاں تو داڑھی اور بال جل جانے کا خطرہ تھا اس لئے وہ یہاں آپ کی نقل کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے حالانکہ اگر سچا عشق ہو تو انسان ہر قسم کے خطرات میں اپنے آپ کو جھونک دیتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو تو مجھے کیا انکار ہو سکتا ہے میں اس پر ایمان لے آتا۔میں تو خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا اس لئے انکار کرتا ہوں کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ہی نہیں سکتا۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے۔یہاں ہر دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جلسوں کا پروگرام اس طرح بنایا جاتا ہے کہ اصل غرض کو پورا کرنے کے لئے وقت نہیں بچتا حالانکہ مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیم اس لئے قائم کی گئی ہے کہ ہر چیز حساب کی طرح ہر ممبر کو یا د ہو۔وہ جب بھی کوئی پروگرام بنا ئیں انہیں علم ہونا چاہئے کہ فلاں کام پر کتنا وقت لگے گا ، فلاں پر کتنا وقت لگے گا ، ہم نے فلاں سے کتنی دیر تقریر کرانی ہے اور ہمارے پروگرام کے مطابق اُس کیلئے کتنا وقت