انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 588

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۸ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو ہے۔لیکن دوسری طرف مسلمانوں نے اتنی سختی کی ہے کہ عورت کی کوئی رائے ہی انہوں نے باقی نہیں رہنے دی۔اس وجہ سے ہمارے ملک کی عورت کو یہ عادت پڑ گئی ہے کہ وہ سنی سنائی بات پر یقین لے آتی ہے اور جو کچھ مرد کہتے ہیں مان لیتی ہے، خود سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے بھجوایا ہے کہ ان خرابیوں کا ازالہ ہو اور عورتوں کو ان کا پھر اصل مقام حاصل ہو۔یہ زمانہ فلق کا زمانہ ہے جس میں نور پھٹ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ پھر ایک تازہ روشنی کا ظہور ہو رہا ہے۔اب ہماری جماعت میں یہ آواز بلند ہونی چاہئے کہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ اسلام اور احمدیت کو سمجھنے کی کوشش کرنی کی چاہئے اگر تم صرف اس بات کو کافی سمجھتی ہو کہ تمہارے مرد دین سیکھ رہے ہیں تو تم کبھی بھی اعلیٰ درجہ کی قربانی نہیں کر سکتیں۔اگر مردوں کا دین تمہارے لئے کافی ہوسکتا ہے تو پھر مردوں کی آزادی بھی تمہارے لئے کافی ہونی چاہئے اور مردوں کی ترقی بھی تمہارے لئے کافی ہونی تھی چاہئے۔پھر تمہارے لئے سوائے تاریک کونوں میں بیٹھنے کے اور کوئی کام نہیں رہے گا۔لیکن اگر کی آزادی تمہارے لئے بھی ضروری ہے تو پھر تمہیں بھی اپنے دماغ سے سوچنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور دین کو سمجھنے کی قابلیت پیدا کرنی چاہئے۔میں ۱۹۲۴ ء میں جب انگلستان گیا تو میں نے کتابوں میں پڑھا ہوا تھا کہ جب عورت اور مرد وہاں ریل میں اکٹھے سفر کر رہے ہوں اور عورت کو بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہ ہو تو مرد فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور عورت کو جگہ دے دیتے ہیں۔ایک دفعہ ہم انڈرگراؤنڈ ریل میں سفر کر رہے تھے ایک دو دوست بھی میرے ساتھ تھے کہ ایک انگریز عورت اندر داخل ہوئی بھیڑ زیادہ تھی اور اس کے بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی مگر میں نے دیکھا کہ اُس کو بٹھانے کے لئے کوئی مرد کھڑا نہ ہوا وہ اسی طرح کھڑی رہی۔جب گاڑی اور زور سے حرکت میں آئی تو ہلنے کی وجہ سے کبھی وہ ایک طرف گر جاتی اور کبھی دوسری طرف۔میں نے یہ نظارہ دیکھا تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے اپنے ایک ساتھی کو کہہ کر اُسے جگہ دلا دی۔جب وہ بیٹھ گئی تو ایک انگریز کہنے لگا ہم نے تو اسے جگہ نہیں دی تھی مگر آپ چونکہ غیر ملک کے ہیں اس لئے آپ نے اسے بٹھا لیا۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عورتوں نے یہ شور مچارکھا ہے کہ ہم وہی کچھ کریں گی جو مرد