انوارالعلوم (جلد 21) — Page 571
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۷۱ تعلیم الاسلام ہائی سکول تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام۔جماعت کے اُسی فرد نے جس نے نو جوانی کی حالت میں شہد کی مکھیوں والا معجزہ دکھایا تھا تج اُس نے اُدھیڑ عمر سے بھی گزر کر دشمن کو چیلنج کیا کہ ہم اپنا گھر اُجڑ نے نہیں دیں گے ، ہم اپنا نیا کی چھتہ بنائیں گے اور دکھا دیں گے کہ ہمارے عزم کا مقابلہ کرنے والی اور کوئی قوم نہیں۔اور تم یہ نظارہ دیکھ رہے ہو منزلیں گزرتی جاتی ہیں اور سفر ایک ہی پرواز میں طے نہیں ہوتا۔ہم نے قادیان سے پرواز کی اور کچھ دیر لاہور ٹھہرے۔پھر ایک پرواز کی اور کچھ آدمی احمد نگر چلے گئے اور کچھ چنیوٹ میں ہی ٹھہر گئے اور کچھ اُس جگہ کی تلاش میں گئے جہاں وہ اپنا نیا چھتہ بنائیں گے۔اب ہم معماروں کی طرح نیا چھتہ بنارہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم کے ساتھ اِسے شہد کے ساتھ بھر دیں گے اور مکھیاں سمٹ کر دوبارہ یہاں آ بیٹھیں گی۔تم طالبعلم اس انتظار میں ہو کہ چھتہ بن جائے تو ہم وہاں جا بیٹھیں ، احمد نگر والے اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ہم معماروں کی طرح وہ چھتہ تیار کریں گے جس میں انہوں نے بیٹھنا ہے۔یہ نشان جس طرح اسلام میں ظاہر ہوا ہے شاید ہی کسی دوسرے مذہب میں ظاہر ہوا ہو۔یہ چیزیں منفردانہ حیثیت رکھتی ہیں۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نے باقی انبیاء کی کے مقابلہ میں اپنی منفردانہ حیثیت کو پیش کیا ہے۔آپ کے اتباع نے بھی اپنی منفردانہ حیثیت کو پیش کیا ہے۔میں تاریخ کا بڑا مطا لعہ کرنے والا ہوں میں نے یہ مثال کہیں بھی نہیں دیکھی کہ ایک نوجوان نے اپنی نو جوانی میں ایک چھتہ قائم رکھا ہوا اور پھر اُسے بڑھاپے میں بھی اُسے قائم رکھنے کی توفیق ملی ہو۔تم دیکھو گے کہ ایک شخص جوانی میں ایک چیز بناتا ہے اور پھر وہ بنتی چلی جاتی ت ہے۔ایک شخص بڑھاپے میں ایک چیز بناتا ہے اور پھر وہ بنتی چلی جاتی ہے مگر ایک شخص نے اپنی تی جوانی میں بھی ایک ایسے حملہ کا مقابلہ کیا جس نے جماعت کو تہہ و بالا کر لینے کا تہیہ کر لیا تھا۔ابھی تو میں نے خلافت کا جھگڑا نظر انداز کر دیا ہے جب میں صرف ۲۵ سال کی عمر کا تھا اور دشمن نے ہمارا چھتہ اُجاڑنے کی کوشش کی۔غرض ایک شخص سے جوانی میں بھی یہ کام لیا گیا ہوا اور پھر بڑھاپے میں اُس سے بھی زیادہ خطرناک حالت میں اُس سے وہی کام لیا گیا ہو اور اُس نے جماعت کو پھر اکٹھا کر دیا ہو اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا بڑی محنتی تھی۔اُس نے سوت