انوارالعلوم (جلد 21) — Page 531
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۳۱ نووی جلد ۲ صفحہ ۱۴ اور فقہ علی مذاهب الاربعه جلد ۳ صفحه ۳ ۵۸ کتاب الفقه و بداية المجتهد و مدونه جلد ۳ صفحه ۴۶۸ ۵۹ کتاب الفقه جلد ۳ صفحه ۳ وبداية المجتهد جلد ۳ صفحه ۸۳ بداية المجتهد جلد ۲ صفحه ۱۸۳ ال ابوداؤد كتاب البيوع باب فى زرع الأرض بغير اذن صاحبها ٢ كتاب الخراج صفحه ۳۵ مطبوعہ مصر ۱۳۰۲ھ الاحكام الاسلاميه صفحه ۱۶۹ سیرت عمر بن عبدالعزیز صفحه ۲۶ اسلام اور ملکیت زمین BAYBARS) A) بیبرس اوّل: الملک الظاہر رکن الدین الصالحی (۱۲۳۳ ء۔۷ ۱۲۷ ء ) مصر کے بحری مملوکوں میں سے چوتھا سلطان۔عہد حکومت (۱۲۶۰ ء۔۱۲۷۷ء) یہ قیچاقی ترک تھا جسے بعض دوسرے افراد کے ساتھ سلطان نجم الدین ایوبی نے بطور غلام خریدا۔۱۲۳۹ ء میں وہ مصری فوج کے ساتھ شام گیا اور ابتدائی جنگی تجربات حاصل کئے۔پھر اس نے جنگ منصورہ ۱۲۵۱ ء میں نمایاں خدمات انجام دیں جس میں شاہ فرانس گرفتار ہوا اور چار سال اسیری میں گزارے۔بیبرس کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے سیف الدین قطز کے ماتحت جالوت کی جنگ میں ۱۲۶۰ ء میں تاتاریوں کو خوفناک شکست دی۔قطر مارا گیا اور بیبرس مصر کا سلطان بن گیا۔اسے حکمرانی کے لئے صرف سترہ سال کی مہلت ملی لیکن اس مختصر سی مدت میں اس نے جو عظیم الشان نی کارنامے انجام دیے وہ دوسروں کی طویل المیعاد حکومتوں میں بھی کم نظر آتے ہیں۔اُس وقت مصر کے لئے تین بڑے خطرے تھے۔اول صلیبی مہم جو، دوم تا تاری ، سوم حشیشی۔پیرس نے تاتاریوں کو 9 مرتبہ شکستیں دیں۔تین مرتبہ حشیشیوں پر حملے کئے۔پانچ مرتبہ وہ ازمنوں سے لڑا اور ۲۱ مرتبہ صلیبیوں کو بُری طرح تباہ کیا۔۱۵ زبردست لڑائیوں میں وہ خود فوجوں کی کمان کرتا رہا مجھ اور ہمیشہ خطرے کے مقام پر سب سے آگے رہتا۔دشمنوں کی سرکوبی کے لئے کم از کم ۲۶ مرتبہ دارالحکومت سے باہر گیا۔پھر خبروں کا انتظام اس اعلیٰ پیمانے پر کیا کہ اسے جلد سے جلد دور افتادہ علاقوں سے اہم اطلاعات مل جاتی تھیں۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو فاش