انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 525

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۵ اسلام اور ملکیت زمین اس بناء پر نہیں کہ ایسا ریلہ نہیں آسکتا بلکہ بعض دوسری وجوہ سے۔مگر میں کہتا ہوں ایسے شبہات صحیح بھی ہوں تو وہ ہیں تمہیں لاکھ ایکڑ اور زمین جو سندھ میں نکلنے والی ہے اُس کو محفوظ رکھا جائے۔اسی طرح بلوچستان جس کی زمین آٹھ کروڑ ایکڑ کے قریب ہے اگر وہاں بند لگا کر پانی کے محفوظ کرنے کی تدبیریں کی جائیں تو کم سے کم ستر اسی لاکھ ایکڑ زمین تو بڑی آسانی کے ساتھ اور وہ کی بھی اعلیٰ درجہ کی زرخیز نکل سکتی ہے اور بھی بعض علاقے مغربی پاکستان میں ایسے ہیں جہاں سے نئی زمین پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر ایک مبصرین کی کمیٹی اس پر بیٹھے اور وہ ایک مستقل سکیم اس کے متعلق تجویز کرے تو میری رائے میں ابھی ڈیڑھ کروڑ ایکڑ زمین تو مغربی پاکستان سے چند سال کے اندر پیدا کی جاسکتی ہے۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔(۹) افسروں کی نا واجب لوٹ کھسوٹ ایک وجہ زمینداروں کی غربت کی یہ ہے کہ افسروں کی ناواجب لوٹ کھسوٹ کا وہ شکار رہتے ہیں۔مزدور کو جو نا واجب تحفے دینے پڑتے ہیں اس سے زمیندار کو سو گنے زیادہ دینا پڑتا ہے اور اپنی دماغی بناوٹ کی وجہ سے وہ بد قسمت یہ خیال کرتا ہے کہ افسروں کو کھلا کر اُس کی عزت بڑھ گئی ہے۔یہ کافی بوجھ زمیندار پر ہے جس کا دور کرنا نہایت ضروری ہے۔اب تک اس نیم بر اعظم میں جو ہندوستان کہلاتا تھا اور اب پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم ہے یہ مرض چلتی چلی جارہی ہے اس کا علاج کوئی نہیں ہو سکا۔زمینداروں کی آمد کا کافی حصہ پولیس اور تحصیل کے افسروں بلکہ میں نے تو دیکھا ہے کہ ٹیکہ لگانے والوں تک کی نذر ہوتا ہے اور وہ غریب اپنی سادگی میں اِن سب کو صاحب بہادر سمجھتے ہوئے اُن کی خاطر کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اُسے کچھ زمین عطیہ کے طور پر عطا ہو جائے گی۔یہ خواب وہ اور اُس کی اولا د دیکھتی چلی جاتی ہے اور گو وہ اور اُس کی نسل اس بات کو سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی کوئی تعبیر نہیں نکل رہی مگر پھر بھی اُن کا ایمان اس بارہ میں متزلزل نہیں ہوتا۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ پنجاب کے ایک گاؤں میں گیا وہاں ایک زمیندار کے گھر میں ہم ٹھہرے اُس نے بڑی لمبی داستان سنائی کہ اُس نے گورنمنٹ کی بڑی بڑی خدمات کی ہیں مگر