انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 512

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۲ اسلام اور ملکیت زمین ہمارے پاکستان کے نقطۂ نگاہ سے نہایت اچھی ملازمت کہلائے گی اُسے چھوڑ کر اُنہوں نے زمیندارہ شروع کیا ہے۔مجھے اُن کے خطوں سے معلوم ہوا ہے کہ اُس تھوڑی سی زمین سے انہوں نے وہ رقم جو قرض اُٹھا کر مقاطعہ پر خرچ کی تھی اُس کا بھی کچھ حصہ اُنہوں نے ادا کر دیا ہے اور اُن کی مالی حالت ملازمت سے زیادہ اچھی ہے۔ان سب باتوں پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ زمیندارہ طریق میں اصلاح کا جو قدم اس وقت تک حکومت اُٹھاتی رہی ہے وہ صحیح نہیں تھا۔ہمیں اپنی راہنمائی کے لئے امریکہ نہیں جانا چاہیے جہاں وسیع کی اور کھلی زمینیں پڑی ہوئی ہیں، نہ روس جانا چاہیے جہاں ابھی آبادی کے بڑھنے کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں ہمیں اپنے زمینداری طریق کی اصلاح کے لئے اٹلی ، جنوبی انگلستان اور جنوبی اور وسطی جرمنی میں جانا چاہیے۔ممکن ہے فرانس اور سپین سے بھی اور شام اور لبنان سے بھی اسی بارہ میں ہم کو کچھ مددمل سکے۔جو وفد ان ملکوں کے دورہ کے لئے جائیں اُن کو عملی طور پر ایسے کھیتوں میں کام کرنے کی ہدایت ہو جن کی کل زمین دس پندرہ ایکڑ سے زیادہ نہ ہو۔وہ عملی طور پر معلوم کریں کہ اُن کے مالکوں کی کیا حالت ہے اگر ہمارے ملک سے اچھی حالت ہے تو وہ کس ذریعہ سے بنائی جاتی ہے اور کہاں سے اس کے لئے آمد پیدا کی جاتی ہے۔جہاں تک میں دیکھتا ہوں ہمارا زمیندار پوری محنت سے کام نہیں لیتا۔اُس کا بہت سا وقت حقہ میں یا اسی قسم کی اور لغویات میں صرف ہوتا ہے۔اُس کی گھریلو محبت اتنی مر چکی ہے کہ اگر اُسے اپنے کھانے کے لئے روٹی مل جائے تو وہ اس کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کرتا کہ اُس کی بیوی کا تی پیٹ بھرا ہے یا نہیں یا اس کے بچوں کا پیٹ بھرا ہے یا نہیں۔اگر اُس کی بیوی آدھ روٹی بھی اُس کی کے سامنے کھاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہر وقت چرنے سے ہی کام ہے اور کوئی ہوش نہیں۔اگر وہ کھیت کے کناروں سے چولائی کا ساگ لا کر پکاتی ہے تو وہ یہ نہیں کرتا کہ بیوی بچوں کا حصہ نکالے بلکہ روٹی پر سارا ساگ ڈال کر کھا لے گا اور سمجھے گا کہ اب سب ذمہ داریاں ادا ہوگئی ہیں۔اس حالت نے اُسے صحیح جذبات سے محروم کر دیا ہے۔ضرورت ہے کہ اُس کے اندر زندگی کے نئے جذبات پیدا کئے جائیں۔یہ امید دلا کر کہ خدا تعالیٰ نے اس زمین میں بڑی طاقتیں رکھی ہیں اور کام میں بڑی برکتیں ہیں نہ یہ کہ لوٹ کھسوٹ کی عادت ڈال کر اور لوگوں کا