انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 18

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء محفوظ کرا لیں۔مجھے ابھی تک خط آ رہے ہیں کہ ہمیں دو سو روپیہ یا تین سو روپیہ پر زمین دے دی جائے حالانکہ کچھ عرصہ کے بعد پانچ سو روپیہ فی کنال کے حساب سے بھی زمین نہیں مل سکے گی۔اگر یہ لوگ بحث ہی کرتے رہے تو وہ موجودہ نرخ پر زمین خریدنے سے بھی محروم رہ جائیں گے۔ہم ربوہ کی آبادی کے لئے عمارتی سامان بھی اکٹھا کر رہے ہیں کیونکہ عقل یہ چاہتی ہے کہ عمارتوں کی تعمیر پر کم سے کم خرچ ہو اور ہم اس کام کو تنظیم کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ہم ایسے نقشے تیار کروا رہے ہیں جن کے مطابق مکان سستے سے ستا بن سکے۔ہم نے انجینئروں کو ہدایتیں کی دی ہیں کہ مختلف ممالک میں جونئی ترکیبیں مکانات بنانے کی نکلی ہیں اُن کے مطابق اور مختلف انجینئروں سے مشورہ کرنے کے بعد وہ طریق دریافت کریں جس سے مضبوط اور صحت افزاء مکانات کم سے کم خرچ میں تیار ہو سکیں۔اس وقت تک جو ہم نے اندازہ لگایا ہے اُس کے مطابق مکان اگر تین کمروں کا ہو اور اُس کے ساتھ برآمدہ، پاخانہ لہ باورچی خانہ اور چار دیواری ہو، ی بنیادیں پکی ہوں اور عمارت کچی ہو تو اکتیس سو روپیہ میں بن سکتا ہے۔اس سے گھٹیا درجہ کے مکان کا اندازہ اس سے کم ہے۔ہمارا آخری اندازہ یہ ہے کہ ایک معمولی مکان جس میں دو تین کمرے ہوں سات آٹھ سو روپیہ میں بن سکتا ہے۔آجکل چیزیں بہت گراں ہیں اور انہیں کی حاصل کرنا اور بھی مشکل ہے لیکن پھر بھی بعض صورتوں میں تو ہمارا اندازہ ہے کہ دو کمرے والا مکان غالباً چار پانچ سو روپیہ میں ہی بن جائے گا۔یہی روپیہ جور بوہ کی قیمت کے طور پر آیا ہے اس سے ہم نے سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ہمیں جہاں جہاں سامان کا پتہ چلتا ہے ہم اُسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک ایروڈ رام کی عمارتیں نیلام ہورہی تھیں اُس کا سامان ہی ہم نے خرید لیا ہے اس میں سینکڑوں بالے ، روشندان، کھڑکیاں اور دروازے وغیرہ ہیں۔اگر ی وہ سامان بازار سے خریدا جاتا تو وہ پندرہ سولہ ہزار میں بھی نہیں مل سکتا تھا۔اسی طرح لکڑی اور لو ہے کا سامان حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پس وہ لوگ جو چاہتے ہوں کہ ربوہ میں مکان بنوانے کا کام فوراً شروع کرا دیں تو وہ خزانہ میں روپیہ جمع کرا دیں تا جب بھی سامان خریدا جائے ، انہیں اصل لاگت پر مہیا کر دیا جائے۔صرف پانچ فیصدی مرکزی اخراجات کے لئے ان سے لیا جائے گا اور کوئی نفع نہیں لیا جائے گا۔