انوارالعلوم (جلد 21) — Page 489
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۹ اسلام اور ملکیت زمین میں قریباً ان تمام باتوں کا اوپر جواب دے چکا ہوں جو زمینداری کے مخالف لوگوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں اور خصوصاً وہ باتیں جو سندھ گورنمنٹ زراعتی کمیٹی کی اقلیت کی رپورٹ میں درج کی گئی ہیں۔البتہ ایک بات رہ گئی ہے جو کوئی شرعی دلیل تو نہیں لیکن ایک جذباتی دلیل ضرور ہے اور وہ ابن تین کا قول ہے یعنی چھٹی صدی ہجری کے ایک محدث ابن تین کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جو یہ ہے:۔”ہمارا آج کا مشاہدہ بھی یہ ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف اور دُکھ پانے والی جماعت کسان ہیں۔‘ ۱۰۷ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالہ کا ترجمہ بھی غلط کیا گیا ہے۔اس حوالہ میں ہرگز اس طرف یہ اشارہ نہیں ہے کہ کسانوں کی حالت خراب ہے جیسا کہ اقلیتی رپورٹ نے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ اس رپورٹ میں اس حوالہ کے نقل کرنے سے پہلے یہ لکھا ہے کہ:۔”زمیندارہ طریق نے ایک وسیع مصیبت اور غربت کسانوں میں پیدا کر دی تھی یہاں تک کہ چھٹی صدی ہجری میں بھی ابن تین کو یوں لکھنا پڑا۔“ ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ رپورٹ لکھنے والے صاحب پڑھنے والے پر یہ اثر ڈالنا چاہتے ہیں کہ گویا اوپر کی عبارت میں کسان کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو زمیندار کے ظلم کی وجہ سے اُس پر وارد ہورہی تھی حالانکہ اس حوالہ میں ہرگز اس کی طرف اشارہ بھی نہیں۔ابن تین کی پوری عبارت کا ترجمہ یہ ہے:۔ابن تین کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ( جس کا ذکر آئندہ کیا جائے گا ) غیب کی خبروں میں سے تھی کیونکہ یہ بات مشاہدہ سے معلوم ہوتی ہے کہ اکثر ظلم کھیتی کرنے والوں پر ہوتا ہے۔“ اس حوالہ میں کھیتی باڑی کے الفاظ ہیں جو ہرگز کسان پر دلالت نہیں کرتے۔بارہ ایکڑیا نی پندرہ ایکڑ یا چھپیس ایکڑ والا وہ زمیندار جو اب پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ بھی کھیتی کی باڑی کرنے والا آدمی ہو گا اور ویسا ہی آدمی جو پہلے گزر چکا ہو وہ بھی کھیتی باڑی کرنے والا تھا