انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 477

انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین میں سے پہلی صورت میں وہ شخص زمین کا پوری طرح مالک ہو گا جس کو زمین دی گئی ہے اور باقی دوصورتوں میں صرف خراج اور عشر یعنی سرکاری آمدن لینے کا اُسے حق ہوگا لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ سارے قواعد ہمارے ملک کے رواج پر منطبق نہیں ہوتے اس لئے کہ اس ملک میں ہر جگہ زمیندار زمین کے مالک ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔پس ایسی زمین جو بیت المال کی ملک ہو اس ملک میں موجود نہیں اور نہ ہی ایسی زمین جو موات کا حکم رکھتی ہو یا ایسی زمین جو وارث کے نہ ہونے کی وجہ سے بیت المال کی ملک میں آئی ہو یا بیت المال کی آمدن سے اُسے خریدا گیا ہو گی اور اگر کوئی ایسی زمینیں ہیں تو وہ ممیز اور دوسری زمینوں سے نمایاں نہیں ہیں۔پس اس حکم کو کسی کی معین جگہ پر جاری کرنا ممکن نہیں ہو گا سوائے اس کے حضرت شیخ جلال تھا میسری نے جو کچھ اپنے رسالہ میں لکھا ہے اُسے بنیاد مانا جائے۔اُنہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی زمین ابتداء میں سواد عراق کی مانند فتح ہوئی تھی اس لئے یہ بیت المال کے لئے وقف ہے اور زمینداروں کی حیثیت متوتی اور مینجر سے زیادہ نہیں جیسا کہ لفظ زمیندار بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے اور زمینداری میں تغیر و تبدل اور زمینداروں کو معزول کرنا اور رکھنا اور بعض کو نکالنا اور بعض کو مقرر کرنا اور بعض زمینیں افغانوں، بلوچوں، سیدوں اور قدوائیوں کو بطور زمینداری دینا اس پر صریح دلالت کرتا ہے۔پس اس صورت میں تمام اراضی ہندوستان بیت المال کی ملک ہو جائیں گی۔اس طور پر کہ وہ اُن کے پاس نصف یا کم و بیش بٹائی کی صورت میں ہونگی۔اس زمین کا ہر قطعہ جو بادشاہ وقت دائمی طور پر کسی کو بخش دے وہ اُس کی ملک ہوگا اور جو قطعہ بصورتِ گذاره آمدن ( حقوق موروثیت ) اُس کو دیا گیا ہو وہ عاریہ شمار ہوگا۔ہاں پُرانے بادشاہوں کی کے حکمناموں کو دیکھ لینا چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ کون سی زمین دائمی ملکیت کی ہے اور کون سی دوسری۔اور جو زمین دائمی ملکیت کی ہے اگر تو اُس کے ساتھ خراج کی معافی بھی تھی تو خراج بھی واجب نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں رقبہ ء ارضی کی تملیک ہوگی اور خراج بطور تنخواہ اُسے ملتا ہی ہوگا۔اور اگر صرف زمین کی تملیک ہے اور خراج معاف نہیں ہوا تو خراج واجب ہوگا۔اور پہلی صورت میں بھی امام کو حق حاصل ہے کہ زمین مذکورہ سے خراج وصول کرے۔بہر حال اس ملک کی زمینوں میں شبہ ہے اور پہلوں کو جو زمینیں دی گئی تھیں اُن کے دینے کی صورتوں میں بھی