انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 473

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۳ اسلام اور ملکیت زمین غور کیا ہے اور عجیب نکتہ نکالا ہے۔میں نے پوچھا فرمائیے وہ کیا نکتہ ہے ہمیں بھی معلوم ہو۔تو اس پر وہ ایک بستہ اُٹھا لائے جس میں بہت سے نوٹ اُن کے لکھے ہوئے تھے۔اُس میں انہوں نے بڑی لمبی تحقیقات لکھی ہوئی تھی جسے نہ وہ سُنا سکتے تھے نہ ہمارے پاس اُس کے سننے کا وقت تھا۔بہر حال اُس کا خلاصہ تھا کہ مسیح دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اُن کی تھیوری یہ تھی کہ وہ فوت تو ہو چکے ہیں مگر دوبارہ زندہ کر کے بھجوائے جائیں گے اور یہ وہ زمانہ ہوگا جب اُمتِ محمدیہ میں سے مہدی پیدا ہو چکا ہوگا۔مہدی آکر مسلمانوں کی بادشاہت سنبھالی لے گا اور عیسی آکر عیسائیوں کی حکومت سنبھال لے گا اور یہ دونوں مل کر ایک سمجھوتہ کر لیں گے جس کے ماتحت عیسائیوں اور مسلمانوں میں دائمی صلح ہو جائے گی۔میں نے کہا مولا نا ! سیاسی صلح کیلئے تو مسیح اور مہدی کی ضرورت نہیں اور خاتم النبین کے بعد دین میں کسی شکست وریخت کا ی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہ آکر مسیحیوں اور مسلمانوں میں صلح کس بات کی کرائیں گے؟ اُنہوں نے پھر اس پر ایک لمبی تقریر کی جس کا کچھ حصہ تو مجھے یاد نہیں اور جو یاد ہے اُس کا کہنا ت مناسب نہیں۔پس با وجود اس کے کہ مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کا میں بہت ادب اور احترام کرتا ہوں اور اُن کو طبیعتاً ایک نیک انسان سمجھتا ہوں لیکن وہ ہرگز اس پایہ کے آدمی نہیں تھے کہ ان معاملات میں اُن کی رائے کو کوئی وزن دیا جاسکے۔اور شاید اپنے خیالات کی سختی کی وجہ سے وہ بعض دفعہ پوری تحقیق کرنے سے بھی عاجز رہتے تھے۔مثلاً یہی حوالہ جو اُن کی طرف منسوب کیا ت گیا ہے اُس کا مضمون قطعی طور پر غلط ہے اور یا شاید اقلیت کی رپورٹ نے اس کو غلط نقل کر دیا ہے۔بہر حال اقلیت کی رپورٹ کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ:۔ہم امام ابو حنیفہ کے تابع ہیں جنہوں نے زمین کو مقاطعہ پر دینا منع کیا ہے اُن کے نزدیک آدمی اتنی ہی زمین رکھ سکتا ہے جتنی زمین وہ خود کاشت کر سکے۔۹۵ میں اوپر بار بار حوالوں سے ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت امام ابو حنیفہ کا ہرگز یہ مذہب نہیں۔امام ابو حنیفہ ہرگز مقاطعہ پر زمین دینے کو نا جائز نہیں سمجھتے بلکہ وہ بٹائی پر زمین دینے کو نا جائز سمجھتے ہیں۔چنانچہ پھر ذیل میں میں چند حوالے درج کرتا ہوں۔