انوارالعلوم (جلد 21) — Page 441
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۱ اسلام اور ملکیت زمین اس کی حیثیت بھائی بھائی کی نہیں بلکہ اُس کی حیثیت ایک مختار کار کی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمین بٹائی پر دینا ثابت کرتا ہے کہ یہ وجہ درست نہیں ہے۔اسی طرح یہ امر بھی سوچنے کے قابل ہے کہ خیبر کی زمین سب کی سب حکومت کی نہ تھی بلکہ اس کا نصف صحابہ میں تقسیم ہو گیا تھا۔پس اس زمین کا بٹائی پر دینا بتا تا ہے کہ حکومت کے علاوہ عوام بھی بٹائی پر زمین دے سکتے ہیں۔بٹائی کے متعلق جو بعض اختلافات پائے جاتے ہیں اُن میں سے بعض یہ ہیں:۔حنابلہ کہتے ہیں کہ بٹائی جائز تو ہے مگر بہتر یہ ہے کہ بیج کی ذمہ داری مالک پر ڈالی جائے گی یعنی وہ بیچ کا دینا مالک پر واجب تو نہیں سمجھتے لیکن اس بات کو پسندیدہ سمجھتے ہیں کہ مالک یہ ذمہ داری لے۔۵۷ مالکیوں کا یہ خیال ہے کہ ہر رنگ میں یہ بات جائز ہے مگر خود امام مالک فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ اُسی زمین کا نکلا ہوا غلہ بٹائی میں دیا جائے۔امام مالک کے بعض اقوال میں چھ یہ بھی ہے کہ غلہ کے بدلہ میں خواہ وہ اُس زمین میں سے نہ بھی نکلا ہو بٹائی نہ کی جائے۔لیکن اُن کی کے شاگردوں میں سے بعض کا قول یہ ہے کہ نہیں نہ صرف بٹائی جائز ہے بلکہ اُس غلہ کے ساتھ بھی بٹائی جائز ہے جو اُس زمین سے پیدا ہوا ہو۔۵۸ شافعیہ میں بھی اسی طرز پر اختلاف ہے بعض اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں بعض باغ اور زمین کو اکٹھا دینا جائز سمجھتے ہیں اور بعض مطلق زمین کو دینا جائز سمجھتے ہیں۔۵۹ امام شافعی کے نزدیک بھی ایسی زمین جس میں کچھ درخت ہوں بٹائی پر دی جاسکتی ہے ورنہ نہیں۔گو امام ابو حنیفہ کے نزدیک مطلقاً بٹائی ناجائز ہے اور امام شافعی اور امام مالک کے نزد یک مشروط طور پر جائز ہے اور امام احمد ضبل اور امام بخاری اور امام مسلم اور علامہ ابن حزم اور تمام اہلِ حدیث اور حضرت امام ابو حنیفہ کے دونوں بڑے شاگرد اور شافعیوں کے تمام بڑے علماء اور مالکیوں میں سے بھی ایک بڑا حصہ مزارعت کو مطلقاً جائز سمجھتا ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز جن کو گو یا خلافت کا دوبارہ احیاء کرنے والا سمجھا جاتا تھا وہ بھی غلہ کی بٹائی کے طریق کی کو جائز سمجھتے تھے۔چنانچہ محلی شرح محلی کتاب المزارعتہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے