انوارالعلوم (جلد 21) — Page 417
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۷ اسلام اور ملکیت زمین چوتھا باب اسلام نے زمین کی ملکیت کا حق کن کن اصول پر دیا ہے؟ یہ ثابت کر چکنے کے بعد کہ اسلام میں زمین کی ملکیت جائز ہے اور یہ ثابت کرنے کے بعد کہ زمین کی ملکیت اُسی حد تک جائز ہے جس حد تک کہ اموال تجارت یا پیشوں یا نوکریوں کی آمد نیوں کی ملکیت جائز ہے یعنی جو حق ایک پیشہ ور کو اپنے پیشہ کے متعلق ہے، ایک تاجر کو اپنی تجارت کے متعلق ہے، ایک صناع کو اپنی صنعت کے متعلق ہے وہی حق ایک زمیندار کو اپنی زمین کے متعلق ہے اور جن معنوں میں کہ زمین خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے انہی معنوں میں اموال تجارت اور صنعت و حرفت سے تیار کئے ہوئے اموال اور پیشوں سے حاصل کئے ہوئے مال اور نوکریوں سے حاصل کئے ہوئے مال بھی خدا تعالیٰ کی ملکیت میں شامل ہیں۔اور زمینوں کے متعلق وہی قوانین بنائے جاسکتے ہیں جو ان دوسری چیزوں کے متعلق بنائے جاتے ہیں ان دونوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ اسلام نے زمین کی ملکیت کن کن بنیادوں پر تسلیم کی ہے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ اسلام میں ملکیت کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔اول درته دوم خرید سوم ہبہ چہارم کسی ایسی چیز پر قبضہ جولا وارث ہو اور جس پر قبضہ کرنا شریعت کے رُو سے جائز ہو۔ورثہ کا ثبوت تو قرآن شریف سے ثابت ہے۔قرآن شریف میں اولا د کو والد کی جائداد کا وارث قرار دیا گیا ہے پس جس کے والد کے پاس کوئی جائداد تھی اُس کی اولا د اُس کی مالک ہے اور ویسی ہی مالک ہے جیسا کہ باپ مالک تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل نے یہ بات بھی بلا اختلاف ثابت کر دی ہے کہ جاہلیت کی ملکیتیں اسلام میں بھی جائزہ ملکیتیں سمجھی جائیں گی اسی طرح جاہلیت کے قبضے اسلام میں بھی جائز سمجھے جائیں گے۔چنانچہ عرب میں جو لوگ مسلمان ہوئے وہ جن زمینوں پر قابض تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان زمینوں پر قابض رہنے دیا سوائے اس کے کہ وہ زمینیں جنگی قانون کے ماتحت ضبط ہوئی ہوں۔