انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 370

انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی برکتوں والے لوگ وہاں سے چلے جائیں، برکتوں والے ادارے وہاں سے منتقل ہو جائیں مگر برکت وہاں سے نہیں جائے گی۔جو بھی اور جب بھی وہاں برکت کے لئے جائے گا اُسے وہاں کی برکت ملے گی۔پھر ایک دن آیا کہ دنیا کی وجاہت چاہنے والوں نے اس پر امن بستی پر حملہ کیا اور خدا تعالیٰ کی یاد میں بسر کرنے والے اور صداقت کو پھیلانے والے مسکین بندے قادیان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ، وہ گھروں سے پریشان ہو کر نکلے انہوں نے چاروں طرف نگاہ کی ، معمور شہروں ، آباد قصبوں اور زرخیز زمین نے انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا، ان کے ساتھ بھاگنے والے چاروں طرف پھیل گئے مگر یہ حیران تھے کہ ہم کہاں جائیں کیونکہ وہ ایک مقصد رکھتے تھے اور اس کے لئے اکٹھا رہنا ان کے لئے ضروری تھا۔وہ خدا تعالیٰ کے سپاہی تھے اور اکٹھا رہنا اور اکٹھا لڑنا جانتے تھے۔وہ حیران تھے کہ چناب پار کی پہاڑیوں نے انہیں دعوت دی، بہتے ہوئے پانی کے پاس ایک اونچے ٹیلے نے کہا اے خدا کی راہ میں بھاگنے والو! ادھر آؤ۔میری چھاتیوں میں دودھ نہیں ہے مجھے کبھی بھی دنیا کے نو جوانوں نے اپنے لئے قبول نہیں کیا مگر میں اپنی خشک چھاتیاں اور جھلسا ہوا سینہ تمہارے لئے پیش کرتی ہوں اور ان بھاگنے والوں نے خدا کا شکر کیا اور اس جگہ ڈیرہ ڈال دیا۔جس طرح مکہ میں ایک دائی کو سب لوگوں کی نے اپنے بچے دینے سے انکار کر دیا تھا مگر اُس نے خالی ہاتھ جانا پسند نہ کیا اور وہ ایک ایسے بچے کی کو لے گئی جو یتیم تھا، جس کی ماں بیوہ تھی اور جس کے گھر سے اُسے کچھ ملنے کی امید نہ تھی۔اسی کی طرح خدا تعالیٰ نے انہیں بھی ایک ایسی دائی دی جس کا گھر آ منہ کے گھر کی طرح خالی تھا۔پس اُنہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اُنہوں نے اس میں خدا تعالیٰ کی باتوں کو پورا ہوتے دیکھا اور خدا تعالیٰ نے بھی عرش سے اس امر کو دیکھ کر کہا اے بے آب و گیاہ وادی! تو بابرکت ہو کہ تو ہی نے میرے لئے بھاگنے والوں کو پناہ دی اور وہ بابرکت ہو گئی۔اس نے یہ برکت کسی اور سے نہیں چھینی۔مکہ کی برکتیں اُسی کے پاس ہیں، یروشلم کی برکتیں اُسی کے پاس ہیں۔مدینہ کی برکتیں اُسی کے پاس ہیں ، قادیان کی برکتیں اُسی کے پاس ہیں ، اس کو یہ برکت خدا کے خزانہ سے ملی ہے جس کے خزانے غیر محدود ہیں۔وہ جو اس پر حسد کرتا ہے حسد کرتا چلا جائے۔دینے والے نے دے دیا اور لینے والے نے لے لیا۔اب حاسد کے لئے سوائے دانت پینے اور رونے کے