انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 369

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۹ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی آخری شارع وہاں سے مجبور کر کے نکال دیا گیا کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جگہوں کی برکت واپس نہیں کی جاتی کیونکہ وہ گناہ نہیں کرتیں جس کے خمیازہ میں ان سے برکت چھینی جائے۔آدمی گناہ کرتے ہیں ، خاندان گناہ کرتے ہیں اور اُن سے برکتیں چھین لی جاتی ہیں لیکن جگہوں سے برکتیں واپس نہیں لی جاتیں۔پھر ایک خدا کا بندہ اور اُس کی قوم شاہانِ مصر کے ظلموں سے تنگ آ کر مصر سے نکلے۔کنعان کی زمین نے اُن کو پناہ دی۔پس کنعان کا دل یروشلم با برکت ہو گیا۔وہ با برکت رہا اُس قوم کی نبوت کے زمانہ میں۔اور وہ بابرکت رہا اُس قوم کی نبوت کے ختم ہونے کے بعد بھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ جب کسی جگہ کو برکت دیتا ہے تو پھر اُسے واپس نہیں لیتا۔کیونکہ انسان کبھی تی خدا تعالیٰ کا باغی ہو کر برکت کھو بیٹھتا ہے مگر جگہ باغی نہیں ہوتی اس لئے اُس کی برکت دائمی ہوتی ہے ہے۔وہ زندہ پیغام سے کم بابرکت ہوتی ہے مگر بوجہ موت نہ آنے کے ہوتی ہمیشہ کے لئے بابرکت ہے۔ایک خدا کا پہلوان ، کائنات کا اصلی را ز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ظلموں کی سے تنگ ہو کر مکہ جیسی بابرکت بستی کو چھوڑ کر نکلا۔یثرب نے اُس کے لئے اپنی گود کھول دی۔یثرب کی بیٹیوں نے اُس کے راستہ میں اپنی آنکھیں بچھا دیں۔عرش پر خدا تعالیٰ نے یہ نظارہ دیکھا اور وہ خوش ہو گیا۔اُس نے کہا یہ زمین جس نے میرے پیارے کو برکت دی ، برکت والی ہو اور وہ برکت والی ہوگئی۔خدا تعالیٰ نے مکہ سے برکت نہیں چھینی کیونکہ اُس کی برکتوں کا خزانہ محدود نہیں ہے۔اُس نے نئی برکت اُس دوسری بستی کو دے دی۔پھر وہ محبوب بھی اس دنیا سے چلا گیا اُس کا بنایا ہوا مرکز بھی وہاں سے نکل کر عراق اور شام کی طرف منتقل ہو گیا مگر اُس جگہ کی برکت قائم رہی کیونکہ خدا تعالیٰ جو انعام کیا کرتا ہے اُسے بلا وجہ واپس نہیں لیا کرتا۔پھر ایک زمانہ آیا کہ اسلام غریب ہو گیا۔خدا تعالیٰ اپنی مملوکہ دنیا میں ایک اجنبی کی طرح دیکھا جانے لگا جی اور اُس کی مہمان نوازی سے دنیا نے انکار کر دیا۔مگر قادیان کے ایک فرد نے اُسے اپنے دل میں جگہ دی ، عزت سے اپنے گھر لے گیا اور خدا تعالیٰ نے کہا اے قادیان کی بستی ! تو با برکت ہو جا اور وہ بابرکت ہوگئی۔وہ برکت اب کبھی نہیں چھینی جائے گی ، اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو گا۔