انوارالعلوم (جلد 21) — Page 365
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۵ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی ہے کہ دوبارہ بعثت مسیحی میں ابھی کچھ وقفہ ہے اس لئے میں اس وقفہ کو پورا کرنے کیلئے ہوں۔جب وہ ہوگی تو یہ خلیج پاٹ کر ایک ہی زمانہ پھر شروع ہو جائے گا۔پس در حقیقت آپ کا زمانہ ممتد ہے میرے زمانہ تک۔جب تک میں ہوں اُس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی زمانہ ہے پھر اور مسیح ہوں گے شاید وہ کچھ وقفہ کے بعد ہوں لیکن مقدر یہی ہے کہ اسلام کے استحکام کے لئے بار بار مسیح دنیا میں آئیں اور انہیں آنا چاہیے کیونکہ جتنا نقصان مسیح کی اُمت نے اسلام کو پہنچایا ہے اتنا نقصان اور کسی نے نہیں پہنچایا اس لئے اسلام کے استحکام پر بھی خدا تعالیٰ مسیح کی اُمت کو ہی لگانا چاہتا ہے۔غرض تمام پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود ہے اور میں اُن کا بروز اور اُن کا نام پانے والا ہوں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا مسیح موعود سے کہے گا کہ پہاڑ پر چلے جاؤ تو اس سے مراد میں تھا۔چنانچہ مجھے بتایا گیا کہ میں قادیان سے ہجرت کر کے ایک پہاڑی علاقہ میں جاؤں گا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آؤ ہم ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں جس میں سلسلہ کا نیا مرکز بنانے کی طرف اشارہ تھا تو اس سے بھی مراد میں تھا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ہجرت ضروری ہے اس لئے ان کو بھی ہجرت کا موقع ملے گا تو اس سے میں ہی مراد تھا کہ میرے ذریعہ سے آپ کو ہجرت نصیب ہوگی اور یہ سمجھایا گیا تھا کہ نادان اور کمزور کہیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لاش کو قادیان میں چھوڑ کر چلے گئے اس لئے اُن کو سمجھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ نہیں مسیح موعود خود قادیان سے نکل کر ہجرت کر گیا یعنی میرے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح حلول کر کے قادیان سے آ گئی کی ہے۔نادان کہے گا وہ اور تم اور ، دو وجود ایک کیسے ہو گئے؟ میں انہیں کہتا ہوں یہ اُسی طرح ہوا جس طرح خدا کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔جب مریم اور مسیح ایک ہو سکتے ہیں تو میں اور مسیح ایک کیوں نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میں مریم بھی ہوں اور مسیح بھی ہوں۔14 پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کہا کہ خدا ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں تو