انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 330

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۳۰ الرحمت ہے۔وہ عدل اور انصاف کو عدل اور انصاف کے ذریعوں سے ہی حاصل کرنا چاہتی ہے۔وہ عدل اور انصاف کے حاصل کرنے کے لئے غیر منصفانہ اور غیر عادلانہ ذرائع کے اختیار کرنے کو جائز قرار نہیں دیتی۔ہر سمجھدار انسان اس جماعت کو سر اور آنکھوں پر بٹھائے گا۔ہر سمجھدار حکومت ایسی جماعت کو قدر اور عزت کی نگاہوں سے دیکھے گی۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر اس سے پہلے نہیں تو آئندہ ہندوستان کی مختلف صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت ان احمدی تعلیمات کو مد نظر رکھ کو جو میں نے اوپر بیان کی ہیں احمدیوں کے متعلق اپنے رویہ کو تبدیل کرے گی۔مجھ سے بعض ہندوستانی جو ادھر آتے رہتے ہیں اُنہوں نے بعض دفعہ ان امور پر تبادلۂ خیالات کیا ہے اور بعض سے سوالات کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمارے نقطۂ نگاہ کو پورے طور پر نہیں سمجھا۔مثلاً یہ کہ اگر آپ ہندوستان کے احمدیوں کو ہندوستان کی وفاداری کی تعلیم دیتے ہیں تو کیا پاکستان کے احمدی کشمیر کے معاملہ میں پاکستان حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے؟ میری اوپر کی تشریح کے بعد یہ سوال کیسا مضحکہ خیز معلوم ہوتا ت ہے۔جو کچھ میں نے اوپر بیان کیا ہے اُس کا تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے نزدیک قرآن کریم کی جھ یہ تعلیم ہے کہ جو شخص جس حکومت میں رہے وہ اُس کا فرمانبردار رہے اور اُس کے ساتھ تعاون کرے۔اس تعلیم کا یہ مطلب ہے کہ ہر پاکستان میں رہنے والا احمدی اپنی حکومت کا پوری طرح فرمانبردار ہوگا اور اُس کے مقاصد اور مفاد میں پوری طرح تعاون کرے گا۔اور ہندوستان میں رہنے والا ہر احمدی حکومت ہندوستان کا پوری طرح فرمانبردار ہوگا اور اُس کے مقاصد اور مفاد میں اُس سے پوری طرح تعاون کرے گا۔اتنی واضح تعلیم کے بعد اس قسم کا شبہ پیدا ہی کس طرح کی ہوسکتا ہے۔یہ سوال تو بے شک کیا جا سکتا تھا کہ کیا ہندوستان میں رہنے والا احمدی اپنی حکومت کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے گا ؟ اس کا جواب یقیناً میں یہ دیتا کہ ہاں کرے گا لیکن ہر حکومت کی وفاداری کی تعلیم سن کر یہ کہنا کہ کیا پاکستان میں رہنے والا احمدی پاکستان کی حکومت سے بغاوت کرے گا ؟ بالکل احمقانہ اور جاہلا نہ سوال ہے۔اوپر کی بیان کردہ تعلیم کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہر احمدی حکومت پاکستان کی پوری فرمانبرداری کرے گا اور اُس کے تمام مقاصد اور مفاد میں اُس کے ساتھ تعاون کرے گا۔اگر پاکستان ہم سے یہ مطالبہ کرے