انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 284

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۸۴ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کامیابی ہے عقل اور علم کی ضرورت ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیز تمہارے پاس نہیں۔ہاں ایک اور چیز ہے جس سے تم جیت سکتے ہو اور وہ دیوانگی ہے لیکن وہ بھی ابھی تم میں پیدا نہیں ہوئی۔عقل کہتی ہے تم نے غالب آنا ہے تو جتھہ پیدا کرو لیکن جتھہ تمہارے پاس نہیں ہے۔صرف لاہور کی آبادی ۷الاکھ کی ہے اور تمہاری تعدا د قریباً تین لاکھ کی ہے آخرتم فخر کس بات پر کرتے ہو؟ پھر مالی لحاظ سے صدر انجمن احمدیہ کی حیثیت ایک معمولی تاجر کی بھی نہیں۔لائل پور کے صرف ایک تاجر پر سات لاکھ روپیہ سالانہ ٹیکس لگا ہے اور تم سب مل کر سات لاکھ روپیہ کتنی مشکل سے چندہ دیتے ہو۔علم کہو تو تمہارے ایک کے مقابلہ میں دوسروں میں ہزار عالم نکلیں گے۔پھر کیا چیز ہے کی جس کی بناء پر تم کامیاب ہو جاؤ گے ؟ تم اُن سے روپیہ چھین نہیں سکتے اور نہ اُن سے زیادہ روپیہ کما سکتے ہو ، تم اُن کا علم چھین نہیں سکتے اور نہ ہی اتنا علم سیکھ سکتے ہو، تم جتھہ کے لحاظ سے اُن کو ماتحت نہیں کر سکتے۔صرف ایک ہی چیز ہے جس کی وجہ سے تم کامیاب ہو سکتے ہو اور وہ جنون ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں یہ جنون پایا جاتا تھا اور وہ جیت گئی ، حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم میں یہ جنون پایا جاتا تھا اور وہ جیت گئی ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں بھی جنون تھا جس کی بناء پر وہ دنیا پر غالب آئے۔اب تمہیں بھی جنون ہی تھی کامیاب کر سکتا ہے لیکن تم نے اسے اپنے ہاتھوں کھو دیا ہے۔مجنون کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ وہ کسی کی پر واہ نہیں کرتا۔ہمارے ہاں ایک اُستانی تھی اُس کا سر چکرا یا کرتا تھا وہ چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھی کہ زلزلہ آیا۔پاس والوں نے کہا زلزلہ آیا ہے مگر وہ کہنے لگی تم آرام سے بیٹھی رہو زلزلہ وغیرہ کوئی نہیں آیا صرف میر اسر چکرایا ہے یہ علامت ہے جنون کی۔ایسا آدمی دوسرے کی پرواہ نہیں کرتا اور ہر جگہ اپنی بات سنا دیتا ہے اور موقع بے موقع لوگ اُس کی بات سنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جہاں بھی کوئی بات ہوگی وہ اپنی سنادے گا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سنایا کرتے تھے کہ ایک مولوی کی بیوی پاگل ہو گئی۔وہ شاہ پور کا رہنے والا تھا اُس نے اپنی پاگل بیوی سے تنگ آ کر اپنا وطن چھوڑ دیا اور لاہور چلا گیا۔چھ ماہ یا سال گزر گیا ایک دن وہ مولوی گھر آیا تو دیکھا کہ اُس کی وہی پاگل بیوی اندر بیٹھی روٹیاں پکا