انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxxi

انوار العلوم جلد ۲۱ صف میں کھڑا کرے گا۔“ ۲۶ تعارف کتب (۲۰) علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب مئی ۱۹۵۰ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے مبلغین اور کچھ جانے والے مبلغین بعض غیر ملکی طلباء اور انڈونیشیا کے مسٹر سپار جا کے اعزاز میں ساڑھے چار بجے سہ پہر احاطہ جامعتہ المبشرین ربوہ میں ایک دعوت چائے دی۔جس میں ڈیڑھ سو کے قریب معززین شریک ہوئے اس موقع پر حضور نے ایک خطاب فرمایا جو مبلغین سلسلہ، علماء سلسلہ اور طلباء دینیات کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس خطاب میں آپ نے ایسی دعوت کا اہتمام کرنے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اس سے دوسرے نوجوانوں کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے جس میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہیے۔دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں آنے والوں اور جانے والوں کے لئے بعض خیالات جو مستقل حیثیت رکھتی ہیں اُن کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے۔فرمایا:۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نو جوانوں کے معیار اخلاق اور ان کے معیارِ دین اور ان کے معیار تقویٰ کو زیادہ سے زیادہ بلند ترین اور ان کے اندر پہلوں سے زیادہ قربانی کا احساس پیدا کریں۔مبلغین پیدا کئے جائیں جو موجودہ ضرورتوں کو سمجھنے والے اور نئے زاویوں اور نئے نقطہ نگاہ سے موجودہ مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ہوں۔زمانہ حال کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں اور مرکز کے ہر لفظ کی اطاعت کریں۔طلباء کو درسی کتب کے علاوہ مختلف علمی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے رہنا چاہیے اور اپنے معلومات کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا چاہیے۔66 حضرت مصلح موعود نے وسعت مطالعہ اور محبت الہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔