انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 245

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۵ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔تمہاری رُوح کے اندر یہ قابلیت نہیں رہے گی کہ تم خدا تعالیٰ سے مل سکو۔وہ فضل جو عام ہے مثلاً کھانا وغیرہ ملنا یہ ایک الگ چیز ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت وہ ہوتی ہے کہ اس سے ایسا تعلق پیدا ہو جائے کہ کسی نہ کسی رنگ میں وہ اپنی مرضی ظاہر کرتا رہے اور یہ چیز ان چیزوں کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ مردہ زندہ والا کام نہیں کر سکتا۔پس ایک نصیحت میں تمہیں یہ کروں گا کہ تم روح کی غذائی حالت کو بہتر بناؤ۔جس طرح تم چاہتی ہو کہ تمہارا جسم زندہ رہے، تم بیمار اور کمزور ہو جاتی ہو تو دوائیں کھاتی ہو، یخنی پیتی ہو، مقویات استعمال کرتی ہو یا اگر کسی کا جگر خراب ہو تو وہ سبزیوں کا استعمال زیادہ کرتی ہے اسی طرح اگر تمہاری روح کمزور ہے تو اُس کی تقویت کا انتظام کرو۔اگر صرف نماز سے سرور نہیں ہوتا تو ذکر الہی کرو، اگر صرف زکوۃ سے سرور پیدا نہیں ہوتا تو صدقہ خیرات کرو، پیٹ بھرنے کا آخر یہی قاعدہ ہے کہ اگر دس لقموں سے پیٹ نہیں بھرتا تو پانچ لقمے اور کھاؤ۔یہی روح کا حال ہے۔اگر صدقہ سے روح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو اور صدقہ دو۔اگر پانچ نمازوں سے روح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو چھ نمازیں پڑھو۔اور اگر پھر بھی تازگی پیدا نہیں ہوتی تو سات نمازیں پڑھو۔نماز چھوڑ دینے سے روح تازہ نہیں ہوتی بلکہ نمازیں زیادہ پڑھنے سے روح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔یہ روح کا ایک غذائی پہلو ہے جس کی طرف میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں۔انسانی زندگی کا دوسرا پہلو فعالی ہے۔انسان جو غذا کھاتا ہے اس سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے۔اگر کوئی شخص کھانا کھانے کے بعد بستر پر لیٹ رہے اور کوئی کام نہ کرے تو دیکھنے والے یہی کہیں گے کہ اس میں اپنے جسم سے صحیح کام لینے کا مادہ نہیں۔اسی طرح کی یہ روحانی غذائیں ہیں ان سے طاقت حاصل کر لینے کے بعد انسان کو اور کام بھی کرنا پڑتا ہے۔جو شخص نماز پڑھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا یا روزے رکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا یا صدقہ خیرات دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کرلیا۔وہ ایسا ہی بیوقوف ہے جس طرح وہ شخص جو کہے میں نے روٹی کھالی، پانی پی لیا تو زندگی کا کام پورا کر لیا۔کھانا پینا تج زندگی کے کام نہیں بلکہ اُسے کام کے قابل بنانے کے لئے غذائیں ہیں۔اسی طرح یہ روحانی کام بھی انسانی زندگی کا مقصود نہیں ، نہ جسمانی زندگی کا مقصود دکھانا پینا ہے اور نہ روحانی زندگی کا