انوارالعلوم (جلد 21) — Page 225
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۵ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک ہر شخص رائج الوقت قانون سے ایک حد تک واقف نہ ہو۔ہر شخص چوہدری نذیر احمد یا سلیم نہیں بن جاتا مگر کچھ نہ کچھ قانون کا علم اُسے ہوتا ہے۔مثلاً وہ جانتا ہے کہ اگر وہ چوری کرے گا تو اُسے سزا ملے گی۔قانونی باریکیاں وہ نہیں جانتا ان کے لئے اُسے وکیلوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی باریکیوں کو تم بے شک علماء پر چھوڑ دو لیکن معمولی احکام تو ہر شخص کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور اُن کا جاننا اُس کا فرض ہے۔میرے نزدیک جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتا وہ حقیقی مسلمان نہیں۔جب اُسے پتہ ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے کیا کہا ہے تو وہ اس پر عمل کیسے کرے گا۔یہ غلط ہے کہ صرف نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج ہی قرآنی احکام ہیں۔ان کے علاوہ اور ہزاروں احکام سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ان کے علاوہ کچھ فکری اور قلبی اعمال ہوتے ہیں پھر ان کا تعہد اور نگرانی کرنے والے اخلاق ہیں جب تک ان کا علم نہ ہو اور ان کے مطابق انسان کا عمل نہ ہو اُس وقت تک نہ نماز نماز رہتی ہے اور نہ زکوۃ زکوۃ رہتی ہے۔بھیرہ کے مشہور تاجر تجارت کے لئے بخارا کی طرف جایا کرتے تھے اور بہت نفع حاصل کرتے تھے۔جب ان کے پاس دولت زیادہ ہو گئی تو لالچ بھی بڑھ گیا اور زکوۃ دینے میں کوتا ہی شروع کر دی۔وہ بڑے بڑے تاجر تھے اور ہر ایک کی دس دس پندرہ پندرہ ہزار زکوۃ نکلتی تھی۔اُن دنوں زکوۃ اس طرح ادا کی جاتی کہ وہ سکوں یا سونے چاندی کے گھڑے بھر لیتے ہی اور ان کے اوپر دو تین سیر گندم ڈال دیتے، پھر کسی طالبعلم یا مسجد کے مُلاں کو گھر بلاتے ، کھلاتے پلاتے اور فراغت کے بعد گھڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے میاں! یہ سب کچھ تمہاری ملکیت ہے اور ساتھ ہی یہ کہہ دیتے تم اِسے اُٹھا کر کہاں لے جاؤ گے میرے پاس ہی فروخت کر دو۔طالب علم اور ملاں یہ جانتے تھے کہ انہوں نے دینا تو کچھ بھی نہیں صرف ایک بہانہ ہے جو کچھ ملے لے لو۔وہ کہتے اچھا پانچ سات روپے میں یہ گھڑا میں آپ کے پاس تی فروخت کرتا ہوں۔اس طرح وہ زکوۃ بھی دے دیتے اور واپس بھی لے لیتے اور سمجھ لیتے ہم نے زکوۃ کے حکم پر عمل کر لیا ہے۔اگر وہ لوگ سارا قرآن کریم پڑھتے تو انہیں اور احکام بھی معلوم ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ ہمارا یہ زکوۃ دینا محض دکھاوا اور خدا تعالیٰ سے دھوکا ہے اور ہم