انوارالعلوم (جلد 21) — Page 222
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲۲ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے ہوتا ہے۔یوں تو غیر مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت ہمیشہ ہی مشکلات پیش آتی ہیں اور لازمی طور پر لہجہ میں فرق معلوم ہوتا ہے تا ہم اگر آپس میں اُردو زبان میں ہی گفتگو کی جائے تو اس میں مہارت حاصل کر لینا کوئی مشکل امر نہیں۔مثلاً میری مادری زبان اگر چہ اُردو ہے مگر میں نے پنجاب میں پرورش پائی ہے اس لئے میں یہ نہیں کہ سکتا بلکہ یہ کہنا لغو ہو گا کہ میرا لہجہ دہلی والوں کا سا ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ بچپن میں میں دہلی اپنی ایک نانی کو ملنے کیلئے گیا۔مشہور مترجم قرآن مرزا حیرت صاحب ان کے بیٹے اور میرے ماموں تھے اُنہیں احمدیت سے حد درجہ کا تعصب تھا مگر بہر حال چونکہ وہ میرے ماموں تھے اس لئے دوسرے رشتہ داروں نے مجھ سے کہا کہ اپنے ماموں مرزا حیرت صاحب کو بھی سلام کر آؤ۔میری عمر اس وقت تیرہ چودہ سال کی تھی۔دہلی کی والوں کی عادت جیسے پان کی گلوری پیش کرنے کی ہے اُسی کے مطابق میری نانی صاحبہ نے بھی مجھے پان کی گلوری دی۔دہلی میں یہ رواج ہے کہ پان میں چھالیہ زیادہ ڈالتے ہیں میں بھی اپنی تی والدہ صاحبہ کی وجہ سے پان کھایا کرتا ہوں لیکن چھالیہ زیادہ پڑا ہو تو اس کی میں برداشت نہیں کر سکتا۔میں جتنا چھالیہ کھایا کرتا ہوں اس سے کلہ بھرتا نہیں لیکن دہلی والے پان میں اتنا زیادہ چھالیہ ڈالتے ہیں کہ اسے کھاتے وقت کلہ بھر جاتا ہے لیکن چونکہ وہ پان مجھے میری نانی نے دیا تھا کی اس لئے میں لینے سے انکار بھی نہیں کر سکتا تھا اس گلوری سے میرا کلہ بھر گیا اور اُسی طرح میں اپنے ماموں مرزا حیرت صاحب کو ملنے کے لئے چلا گیا۔ان کا دفتر با ہر ایک چوبارہ پر واقع تھا۔اُنہوں نے بھی مجھے پان کی ایک گلوری دے دی جس سے میرا دوسرا کلہ بھی بھر گیا اور پھر جیسے جی بچوں سے باتیں کی جاتی ہیں انہوں نے مجھ سے دریافت کیا اچھا میاں ! یہ تو بتاؤ تم کونسی زبان کی میں باتیں کیا کرتے ہو اُردو میں یا پنجابی میں؟ اُس وقت تک میں پنجابی نہیں جانتا تھا اب تو تقریر بھی کر لیتا ہوں پھر میرے دونوں کلے بھرے ہوئے تھے اور اگالدان پاس تھا نہیں اس لئے میرے لئے بولنا مشکل ہو گیا اور اُنہوں نے جب پوچھا میاں ! تم اُردو میں باتیں کرتے ہو یا پنجابی میں؟ تو میں نے بڑی مشکل سے جواب دیا کہ میں دونوں میں بات کر لیتا ہوں۔کتے چونکہ بھرے ہوئے تھے اس لئے اپنے مفہوم کو صاف طور پر ادا نہ کر سکا۔مرزا حیرت صاحب