انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 216

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱۶ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں درست نہیں۔میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے بتایا ہے کہ روزے کسر نفسی کے لئے ضروری ہیں اس لئے میں بھی روزانہ روزے رکھتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ روزے رکھنے کی وجہ سے بجائے اس کے کہ عبادت نفس کو مارے نفس عبادت کو مار دیتا ہے۔اگر کوئی شخص روزانہ روزے رکھے گا تو ایک دن ایسا آئے گا جب اُس کا نفس کہے گا مجھ سے ایسی عبادت نہیں کی جاتی۔پس اتنی زیادہ عبادتیں بھی درست نہیں کہ بجائے اس کے کہ عبادت انسانی نفس کو مارے نفس عبادت کو مار دے۔حضرت عبداللہ بن عمر و فرماتے ہیں میں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! میں مہینہ میں ایک روزہ چھوڑ دیا کروں گا۔آپ نے فرمایا ایک دن بہت کم ہے۔میں نے کہا اچھا دو دن چھوڑ دیا کروں گا۔آپ نے فرمایا دو دن بھی بہت کم ہیں۔میں نے کی کہا اچھا میں تین دن چھوڑ دیا کروں گا آپ نے فرمایا یہ بھی بہت کم ہیں۔اگر تم نے روزے رکھنے ہی ہیں تو حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ لو۔میں نے عرض کیا يَارَسُولَ الله! حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کیسے تھے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھ لیا کرتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیا کرتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر و فرماتے ہیں میں نے اُس وقت یہ سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزوں سے محروم کر دیا ہے لیکن اب میری عمر زیادہ کی ہوگئی ہے اور مجھ میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزہ رکھ سکوں۔اگر میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ کی ہوتی تو میں روزے رکھنا چھوڑ دیتا۔اب چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ہو چکی ہے اس لئے روزے رکھنے پر مجبور ہوں لیکن کی نفس میں روزے رکھنے کی طاقت باقی نہیں رہی ہے پھر صحابہ میں اس کے متعلق اتنا غلو پایا جاتا تھا کہ ایک دفعہ الہی منشاء کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع کئے یعنی افطاری کے وقت تھوڑی بہت چیز کھا کر روزہ کھول دیتے لیکن سحری کے وقت کچھ نہ کھاتے۔صحابہ نے بھی آپ کی نقل میں روزے رکھنے شروع کئے۔آپ نے صحابہ کو منع کیا اور فرمایا میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا اور معاملہ ہے، وہ مجھے خود کھلاتا پلاتا ہے تمہارے ساتھ اس کا وہ معاملہ نہیں ہے غرض صحابہ میں یہ رنگ پایا جاتا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے